1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’ لسانی اتحاد کو متاثر کرنے والوں کے خلاف ہیں‘، چین

دو بدھ راہبوں کی خودسوزی کی کوشش کے بعد چین اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری سیاسی کھینچا تانی اور بیان بازی کا سلسلہ پھر سر اٹھانے لگا ہے۔

default

چین کے جنوب مغربی علاقے میں گزشتہ روز بدھ مت کے دو راہبوں نے خود سوزی کی کوشش کی تھی، جسے بنیاد بنا کر امریکہ نے ایک بار پھر چین میں انسانی حقوق کی صورتحال پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ اس واقعے میں ان راہبوں نے مرکزی حکومت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا تھا۔ اپنے آپ کو آگ لگانے کی کوشش کرنے والے ان دونوں راہبوں کی موت واقع نہیں ہوئی اور وہ بچ گئے۔

واقعے کے بعد امریکی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں بیجنگ سے مطالبہ کیا کہ وہ صحافیوں  اور سفارتکاروں کو اس دیہات تک جانے کی اجازت دے۔ اس پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے چین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے والوں کے خلاف ہے۔ بیجنگ میں دفتر خارجہ کے ترجمان ہونگ لیی نے صحافیوں سے بات چیت میں کہا، ’ ہم ہر اس ملک اور شخص کے خلاف ہیں، جو تبت کے معاملے کو جواز بناکر چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتا ہے اور چینی کے معاشرتی استحکام اور لسانی اتحاد کو متاثر کرنے کی  کوشش کرتا ہے‘۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے بقول عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ خودسوزی کی کوشش سے قبل ان دونوں راہبوں نے دلائی لامہ زندہ آباد کا نعرہ لگایا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ  اس  یہ واقعہ سیچواں صوبے کے آبا نامی دیہات میں پیش آیا۔ تبت میں واقع اسی دیہات میں بودھ مت کی کیرتھی نامی بڑی خانقاہ قائم ہے۔

NO FLASH Symbolbild USA CHINA Besuch Hu Jintao

چینی صدر ہو جن تاؤ نے رواں سال جنوری میں امریکہ کا دورہ کیا تھا

امریکہ نے چین پر زور دیا تھا کہ وہ تبت کے علاقے میں شہریوں کے مسائل کا مداوا کرے اور بالخصوص یہاں کی انفرادی مذہبی اور لسانی شناخت کا احترام کیا جائے۔

اے ایف پی نے مقامی افراد کے حوالے سے بتایا کہ بودھ مت کے ان  راہبوں  کی خودسوزی کی کوشش کے بعد علاقے کو جانے والی تمام سڑکیں انتظامیہ نے بند کردیں اور علاقے میں انٹرنیٹ کی سروس بھی روک دی۔ یاد رہے کہ رواں سال مارچ میں بھی ایک راہب نے خودسوزی کرلی تھی۔ بین الاقوامی مہم برائے  تبت نامی ایک غیر سرکاری تنظیم بیجنگ حکومت کو مؤرد الزام ٹہراتی ہے کہ وہ کیرتھی کی خانقاہ سے منسلک راہبوں کو تشدد کا نشانہ بناتی ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ تبت کے علاقے میں بہت سے افراد مرکزی حکومت پر اُن کے مذہب اور مقامی ثقافت کو دبانے کا الزام لگاتے ہیں۔ اسے چین کے اکثریتی نسلی گروہ ’ہان‘ کی اجارہ داری کا نام بھی دیا جاتا ہے۔ چینی حکومت کا البتہ مؤقف ہے کہ تبت میں بڑے پیمانے کی سرمایہ کاری سے شہریوں کا معیار زندگی خاصا بہتر ہوا ہے۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM