1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لزبن ٹریٹی پرڈوئچے ویلے کا تبصرہ

چیک ریپبلک کے اس رویے سے یورپی یونین کی دوسرے ملکوں کو کوئی اچھا پیغام نہیں ملا ہے۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک یورپی یونین کی پریشانیوں میں اضافہ کر سکتا ہے جب تک اس کی بات نہ مان لی جائے۔

default

یورپی یونین میں اصلاحات کے پیکیج، لزبن ٹریٹی کی علامت

ہلیری کلنٹن کے دورے پاکستان کے بعد اب ذکر لزبن ٹریٹی کا۔ یورپی یونین میں اصلاحات کے معاہدے لزبن ٹریٹی کے راستے کی آخری سیاسی رکاوٹ بھی دور ہوگئی ہے۔ جمعرات 29 اکتوبرکی شام یورپی یونین کے سربراہاں نے چیک جمہوریہ کے صدر واسلاؤ کلاؤس کےان اضافی شرائط کو تسلیم کر لیا جو وہ اس معاہدے میں چاہتے تھے۔ ڈوئچے ویلے کے تبصرہ نگار بیرنڈ ریگرٹ کے بقول ایسا لگ رہا ہے کہ سالوں سے لزبن ٹریٹی کی منظوری میں حائل رکاوٹ چیک صدر کے ہاتھوں ختم ہو گئی ہے۔

ریگرٹ لکھتے ہیں کہ چیک ریپبلک کے ضدی صدر کو مطمئن ہونا چاہیےکہ انہوں نے اپنی من پسند منزل حاصل کر لی ہے۔ یورپی یونین نے لزبن ٹریٹی کے حوالے سے صدر واسلاؤ کلاؤس کے مطالبے کو مانتے ہوئے اصلاحات سے متعلق معاہدے میں ایک اضافی شق شامل کر لی ہے، جس کی قانونی لحظ سے ضرورت نہیں تھی۔ اب چیک صدر کو اپنے حصے کی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے اس اصلاحاتی معاہدے پر دستخط کرنے ہونگے تاکہ اس پرعمل در آمد کیا جا سکے۔

چیک ریپبلک کے اس رویے سے یورپی یونین کی دوسرے ملکوں کو کوئی اچھا پیغام نہیں ملا ہے۔ کسی بھی ملک کی طرف سے ضد کر کے اپنی بات منوانے کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔ سا تھ ہی کوئی بھی ملک اس وقت تک یورپی یونین کی پریشانیوں میں اضافہ کر سکتا ہے جب تک اس کی بات نہ مان لی جائے۔

یورپی یونین نے اس بات کی تصدیق کر دی ہے کہ واسلاؤ کلاؤس کے کہنے پرجو ترامیم کی جا رہی ہیں ان کا اطلاق ماضی کی نہیں بلکہ مستقبل میں کی جانی والی قانون سازی پرہو گا۔

یورپی یونین میں شامل ممالک کے سربراہاں مملکت وحکومت کی کوششوں سے ہی یہ ممکن ہو سکا ہے کہ سلواکیہ اور ہنگری جیسے ممالک نے اسی طرز کی ترامیم کا مطالبہ نہیں کیا۔ چیک صدر کا مطالبہ تسلیم کر کے ایک ایسی مثال قائم کر دی گئی ہے، جو مستقبل میں یورپی یونین میں کسی بھی معاہدے کی منظوری کے وقت مشکل صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔

یورپی یونین میں اطلاحاتی معاہدے لزبن ٹریٹی پر اگلے برس جنوری میں اسی وقت عمل درآمد ہو سکے گا، جب چیک جمہوریہ کی آئینی عدالت اس کے خلاف اٹھائےگئے سوالات پر اپنا فیصلہ سنائےگی۔ عدالت کے فیصلے کے بعد ہی چیک صدر اس دستاویز پر دستخط کریں گے۔

لزبن ٹریٹی کی وجہ سے یورپی یونین کے دواہم عہدوں کے لئے ابھی تک کسی کو بھی منتخب نہیں کیا گیا ہے۔ ان عہدوں کے لئے نمائندوں کا چناؤ کوئی آسان کام نہیں ہوگا۔

جرمنی سے کسی کو بھی ان نمایاں عہدوں کےلئے نامزد نہیں کیا گیا ہے، جو یورپ کی اس سب سے بڑی معیشت کے ساتھ کوئی اچھا برتاؤ نہیں ہے۔ بہرحال اس کا فیصلہ ایک خصوصی سربراہی اجلاس میں ہی ہونا چاہیے۔ اس ساری صورتحال سے ایک بات ثابت ہوگئی ہے کہ 27 ممالک کے ساتھ کسی مسئلے کا حل تلاش کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ یورپی یونین کو اکثریت کی رائے کے ساتھ مزید فیصلوں کی ضرورت ہے اور امید ہے کہ لزبن ٹریٹی کے نافذ العمل ہونے کےبعد یہ تبدیلی بھی آجائے گی۔