1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لزبن معاہدہ جرمن آئین سے ہم آہنگ: جرمن وزراء

جرمنی کی آئینی عدالت میں جرمن وزراء کے مابین متنازعہ لزبن معاہدے پر منگل کو زبردست بحث ہوئی تاہم وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائین مائیر اور وزیر داخلہ ووٴلف گانگ شوئبلے نے مجوزہ معاہدے کا بھرپور انداز میں دفاع کیا۔

default

جرمن آئینی عدالت میں پہلے روز کی سماعت کا منظر

جرمن حکومت نے یورپی یونین میں جامع اصلاحات سے متعلق لزبن معاہدے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ٹریٹی جرمن آئین سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔

اس سلسلے میں کارلسروہے کی وفاقی آئینی عدالت میں سماعت کے دوران جرمن وزیر داخلہ ووٴلف گانگ شوئبلے اور وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائیر نے حکومتی موٴقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ لزبن معاہدے سے جرمن ریاست کی خود مختاری ہرگز متاثر نہیں ہوتی۔

منگل کو جرمنی کی آئینی عدالت میں جب لزبن ٹریٹی پر سماعت کا آغاز ہوا تو وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائین مائیر نے ایسے تحفظّات کو مسترد کردیا کہ ٹریٹی سے یورپ میں جمہوریت کو خطرات لاحق ہیں۔ شٹائین مائیر نے کہا کہ معاملہ بالکل مختلف ہے۔ ’’لزبن معاہدے سے یورپی یونین کی بنیادی جمہوری اقدار اور بھی زیادہ مضبوط ہوں گی۔‘‘ شٹائین مائیر نے آئینی عدالت میں کہا کہ لزبن ٹریٹی سے یورپ بھر میں جمہوریت پہلے سے اور بھی زیادہ مضبوط ہوگی۔

جرمنی کی آئینی عدالت میں لزبن معاہدے پر بُدھ کو بھی بحث جاری رہے گی۔

DEU Europa Verfassungsgericht Reform

سماعت کے دوران جرمن وزیر داخلہ ووٴلف گانگ شوئبلے اور وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائیر نے حکومتی موٴقف کی تائیدکی

جرمن وزیر داخلہ ووٴلف گانگ شوئبلے نے بھی لزبن ٹریٹی کا بھرپور انداز میں دفاع کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سے جرمنی کی سالمیت پر کوئی آنچ نہیں آئے گی۔ جرمن وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ آجکل کے دور میں چیلنجوں کا مقابلہ صرف قومی سطی پر نہیں کیا جاسکتا بلکہ دوسرے ملکوں کے ساتھ بھرپور تعاون سے ہی مسائل کا حل اور چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ممکن ہے۔

لزبن معاہدے کو جرمن پارلیمان کی طرف سے پہلے ہی منظور کیا جاچکا ہے اور ملک کے صدر ہورسٹ کوہلر نے بھی اس پر دستخط کررکھے ہیں تاہم آئینی عدالت کے فیصلے کے بعد ہی حتمی طور پر اسے منظور یا نامنظور کیا جاسکتا ہے۔ عدالت کا فیصلہ دو سے تین ماہ تک کے عرصے میں آسکتا ہے اور اس فیصلے کے آنے تک لزبن معاہدے کا مستقبل غیر یقینی ہے۔

لزبن ٹریٹی کے ناقدین کا کہنا ہے کہ اس سے جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ آئینی عدالت، لزبن ٹریٹی پر قدامت پسند ارکان پارلیمان کا موٴقف بھی سنے گی۔

کارلسروہے کی عدالت میں اس معاہدے سے متعلق سماعت اس لئے کی جارہی ہے کہ جرمنی میں قدامت پسندوں کی کرسچن سوشلسٹ یونین CSU پارٹی کے ایک سابقہ رکن پارلیمان پیٹر گاوٴوائلر اور چند دیگر افراد کے علاوہ جرمن پارلیمان میں لیفٹ پارٹی کے حزب نے بھی اس معاہدے کو جرمن ریاست کی خود مختاری پر سمجھوتے کا نام دے کرآئینی عدالت میں مقدمے دائر کردیئے تھے۔

لزبن معاہدے کی منظوری میں مزید تاخیر جرمن چانسلر انگیلا میرکل کے لئے پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ میرکل نے لزبن ٹریٹی کے لئے زبردست مہم چلائی تھی۔

لزبن ٹریٹی کے حتمی اطلاق کے لئے یہ لازمی ہے کہ یورپی یونین کے تمام ستائیس رکن ملک اس کی توثیق کریں۔

یورپ میں نئی اصلاحات متعارف کرانے کے حوالے سے لزبن معاہدے کو آئرلینڈ میں ایک ریفرنڈم کے ذریعے پہلے ہی مسترد کیا جاچکا ہے جبکہ پولینڈ اور چیک جمہوریہ بھی اسے نامنظور کرچکے ہیں۔ آئرلینڈ میں ٹریٹی پر دوبارہ ریفرنڈم اس سال کسی بھی وقت متوقع ہے۔

لزبن معاہدے کا مقصد یورپی یونین میں اصلاحات متعارف کرانا تھا۔

تیرہ دسمبر دو ہزار سات کو یورپی یونین کے رکن ملکوں کے ستائیس رہنماوٴں نے پرتگال کے دارالحکومت لزبن میں اصلاحات کے تعلق سے ایک معاہدے پر دستخط کئے تھے۔

لزبن معاہدے یا لزبن ٹریٹی کا مقصد یورپی یونین میں بڑے پیمانے پر اُن اصلاحات کو متعارف کرانا تھا جن کا ایک مدت سے انتظار کیا جاتا رہا ہے۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے اُس وقت برلن میں کہا تھا لزبن ٹریٹی پر دستخط ہوجانے سے یورپی یونین مزید مضبوط ہوجائے گی۔ میرکل نے جرمن پارلیمان سے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ لزبن معاہدے پر یورپی یونین کے ستائیس ممبر ملکوں کے رہنماوٴں کے دستخط ہونے سے یورپ میں ایک نئے اور تاریخی باب کا آغاز ہوگا۔’’لزبن معاہدے پر دستخط ہونے کا دن ایک تاریخی کامیابی ہے۔ یورپ کی کامیابی ہے۔یورپ کے مستقبل کے حوالے سے یہ معاہدہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔‘‘