1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لزبن معاہدہ جرمن آئین سے متصادم نہیں،جرمن آئینی عدالت

وفاقی جرمن آئینی عدالت نے منگل کے روز اپنے ایک فیصلے میں کہا کہ یورپی یونین کا لزبن کا معاہدہ جرمن آئین سے متصادم نہیں ہے۔ تاہم وفاقی جرمن صدر کی طرف سے معاہدے کی دستاویز پر دستخطوں سے پہلے نئی قانون سازی کی جانا چاہئے۔

default

13دسمبر 2007 کویورپی کمیشن کے سربراہ باروسو لزبن معاہدےپر یورپی سربراہان کے دستخطوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے

یورپی یونین کے معاہدہ لزبن کے نفاذ سے پہلے، رکن ریاستوں کی طرف سے توثیق کے عمل میں، چار ملک ایسے ہیں جہاں پارلیمانی یا عوامی منظوری کا یہ عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا۔ یہ ملک ہیں، پولینڈ، جیک جمہوریہ، آئرلینڈ اور جرمنی۔

جرمنی میں وفاقی پارلیمان لزبن کے معاہدے کی منظوری دے چکی ہے، لیکن اس معاہدے کے مخالفین نے کارلسروہے کی وفاقی آئینی عدالت میں کئی اپیلیں دائر کررکھی تھیں۔ ان اپیلوں پر کارلسروہے کی عدالت نے اپنا فیصلہ آج منگل کے روز سنایا۔ کافی حد تک خدشہ یہ بھی تھا کہ اگر عدالت نے یہ فیصلہ سنا دیا کہ یورپی یونین کا لزبن کا معاہدہ جرمنی کے بنیادی آئین سے متصادم ہے، تو جرمنی کے ساتھ ساتھ پوری یورپی یونین میں بھی جیسے، زلزلے کی سی صورت حال پیدا ہو جائے گی۔

اس پس منظر میں وفاقی آئینی عدالت نے آج متفقہ رائے سے اپنا جو فیصلہ سنایا، اُس کی بناء پر لزبن ٹریٹی کے حامی اپنی بہت واضح، اور مخالفین اپنی جزوی کامیابی کے دعوے کر سکتے ہیں۔ اس لئے کہ کارلسروہے کی عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وفاقی جرمن صدر ہورسٹ کوئلر بنیادی طور پر اس معاہدے پر دستخط کر تو سکتے ہیں، لیکن فوری طور پر نہیں۔ انہیں تب تک انتظار کرنا ہوگا، جب تک اس معاہدے پر آئندہ عمل درآمد میں، جرمن پارلیمان کے دونوں ایوانوں کی شمولیت اور اُن کے حقوق کی صورت حال بہتر نہیں بنائی جاتی۔

یہ فیصلہ سناتے ہوئے، وفاقی آئینی عدالت کے نائب سربراہ، آندریاس فَوس کُوہلے نے کہا: ’’جرمنی کا بنیادی آئین لزبن کے معاہدے کی نفی نہیں کرتا، تاہم یہ تقاضا ضرور کرتا ہے کہ پارلیمانی انضمام کے عمل میں قومی سطح پر ذمہ داریوں کی صورت حال کو بہتر بنایا جائے۔ عدالت امید کرتی ہے کہ معاہدہ لزبن کی توثیقی دستاویز پر صدارتی دستخطوں سے پہلے، یہ آخری رکاوٹ بھی جلد عبور کر لی جائے گی۔‘‘

اس فیصلے کے بارے میں یورپی پارلیمان کی آئینی امور سے متعلقہ کمیٹی کے، جرمنی میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے سربراہ جولائنن نے اپنی طرف سے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’آئینی اپیلیں دائر کرنے والے اس معاہدے پر اپنے عمومی حملے میں ناکام رہے ہیں۔ لزبن کا معاہدہ جرمن آئین سے ہم آہنگ ہے اور عدالتی فیصلے کا سب سے اہم نکتہ بھی یہی ہے۔‘‘

اس فیصلے کے ساتھ کارلسروہے کی عدالت نے وفاقی جرمن پارلیمان کو معاہدہ لزبن پر عمل درآمد کے حوالے سے ایسی نئی قانون سازی کا پابند بنا دیا ہے، جو موجودہ وفاقی حکومت اسی سال خزاں میں ہونے والے عام انتخابات سے پہلے کرنے کی کوشش کرے گی۔

رپورٹ : مقبول ملک

ادارت : امجد علی

DW.COM