1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

لتا منگیشکر چھیاسی برس کی ہو گئیں

برصغیر پاک و ہند کی کئی نسلیں لتا منگیشکر کے گیت سن کر جوان ہوئی ہیں اور ابھی بھی ان کے گیت کروڑوں لوگوں کے دلوں کی دھڑکن ہیں۔ اٹھائیس ستمبر 1929ء کو پیدا ہونے والی لتا منگیشکر اس برس اپنی چھیاسی ویں سالگرہ منا رہی ہیں۔

Lata Mangeshkar 2006

لتا منگیشکر کی یہ تصویر 23 مارچ 2006ء کو بھارتی شہر ممبئی میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں اتاری گئی

اس سوال کے جواب میں کہ جب وہ اپنے عشروں پر پھیلے ہوئے کیریئر پر ایک نظر ڈالتی ہیں تو کیا محسوس کرتی ہیں، لتا منگیشکر نے چند سال پہلے ڈوئچے ویلے کے شعبہء اردو کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں بتایا تھا: ’’بچپن سے ہی میں نے کام شروع کیا تھا۔ جب میں چھوٹی تھی، کام کرتی تھی، بہت کام کرنا پڑتا تھا۔ پھر میں سوچتی تھی کہ آگے چل کر بہت اچھا ہونے والا ہے۔ جب واقعی اچھا ہوا تب ذمے داریاں بڑھ گئیں۔ جب ایک گانا اچھا ہو جائے، تب یہ ذمے داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ اگلا گانا اس سے بھی اچھا ہونا چاہیے۔‘‘

لتا جی نے فلمی دنیا میں قدم رکھنے کے بعد شروع شروع میں اداکاری بھی کی اور مختلف فلموں میں بچوں کے کردار نبھائے۔ تاہم پھر اُنہوں نے خود کو صرف اور صرف گلوکاری کے لیے وقف کر دیا۔ انہوں نے اپنے دور کے سبھی چھوٹے بڑے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا۔ ان بہت سے موسیقاروں میں موسیقار اعظم نوشاد صاحب بھی تھے۔ اُن کا ذکر کرتے ہوئے لتا جی کا کہنا تھا: ’’نوشاد صاحب نے مجھے اپنی پہلی پکچر ’دلاری‘ کے لیے بلایا تھا اور اُس کے سارے گانے اُنہوں نے مجھ سے گوائے۔ پھر اُنہوں نے مجھے ’انداز‘ میں بھی گانے کا موقع دیا۔‘‘

Der indische Sänger Jagjit Singh Flash-Galerie

2007ء کی ایک تصویر: لتا اور آں جہانی گلوکار جگجیت سنگھ ساتھ ساتھ

ڈوئچے ویلے کے ساتھ ہی باتیں کرتے ہوئے موسیقار نوشاد نے لتا جی کو کچھ ان الفاظ کے ساتھ یاد کیا تھا:’’بہت زیادہ میرے ساتھ کام کیا بلکہ پہلا ہیروئن کا گانا میں نے ہی اُس سے گوایا تھا، فلم ’انداز‘ میں، اٹھائے جا اُن کے ستم اور جیے جا۔ آٹھ دس دن اُن کی زبان درست کروائی۔ پھر جب اُنہیں ریکارڈنگ پر لے کر گئے تو اُنہیں کہا کہ پہلا ہی ٹیک او کے ہونا چاہیے، تم سب سے بہتر ہو، باقی وہاں جتنے بھی لوگ موجود ہیں، جن میں راج کپور، دلیپ کمار اور محبوب صاحب بھی تھے، وہ بہرے ہیں یا بہت ہی کم سنتے ہیں۔ تو اس طرح بُوسٹ اَپ کر کے اُنہیں لے گئے اور پہلا ہی ٹیک او کے ہو گیا۔ تب راج کپور نے اُسے گود میں اٹھا لیا اور سب نے کہا کہ ارے بھئی کمال ہو گیا۔‘‘

ایک اندازے کے مطابق لتا منگیشکر نے اپنے عشروں پر پھیلے ہوئے کیریئر کے دوران مختلف زبانوں میں تقریباً تیس ہزار گیت گائے۔ لتا منگیشکر کا کہنا تھا کہ وہ ساٹھ سے لے کر اَسی تک کے عشرے کو اپنے گیتوں کے حوالے سے سنہری دور سمجھتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر گیت فلموں کے لیے تھے تاہم خود اُنہیں ہلکی پھلکی موسیقی کی بجائے کلاسیکی موسیقی ہمیشہ زیادہ پسند رہی۔

Lata Mangeshkar Sängerin aus Indien mit Narendra Modi und Sunny Deol

لتا منگیشکر جنوری 2014ء کو ممبئی میں ایک تقریب میں نریندر مودی (موجودہ بھارتی وزیر اعظم) اور اداکار سنی دیول کے ساتھ

پلے بیک کی دنیا میں قدم رکھنے سے پہلے لتا منگیشکر اس شعبے میں پہلے سے کامیاب جن فنکاراؤں کو اپنا آئیڈیل مانتی تھیں، اُن میں ملکہ ترنم نور جہاں بھی شامل تھیں۔ اس حوالے سے اپنی یادیں تازہ کرتے ہوئے لتا جی نے بتایا تھا: ’’میں ہمیشہ ہی نور جہاں جی کے گیت سنتی تھی اور اُن کے ریکارڈ سن سن کے ہی میں نے یہ سیکھا کہ آواز کیسے لگانی ہے، فلم کے لیے کیسے گایا جاتا ہے، صحیح مانیے تو ایک طرح سے اس شعبے میں مَیں اُنہیں اپنا گرو ہی مانتی ہوں۔‘‘

ملکہ ترنم نور جہاں فن کی دنیا میں لتا منگیشکر سے سینئر تھیں تاہم وہ لتا کی فنی عظمت کا ہمیشہ اعتراف کرتی تھیں۔ نورجہاں نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ’’ایک بار لتا جی نے مجھے کہا کہ باجی، گانوں میں ہائے کہنا اور محبت کہنا میں نے آپ سے سیکھا ہے۔ تو بڑی بات ہے کہ ایسے الفاظ برصغیر کی ایک ایسی عظیم گلوکارہ کی زبان سے ادا ہوئے۔ دنیا میں لتا ایک ہی ہے۔‘‘

Lata Mangeshkar Sängerin aus Indien

لتا نے اپنے عشروں پر محیط کیریئر میں مختلف زبانوں میں تقریباً تیس ہزار گیت گائے

لتا منگیشکر نے نور جہاں کے ساتھ اپنی ایک ملاقات کے حوالے سے بتایا:’’جب نور جہاں اپنے ہاں کھانے کی ایک دعوت کے بعد مجھے دروازے پر چھوڑنے آئیں تو کہنے لگیں کہ ’تمہارا فلم ’رضیہ سلطان‘ کے لیے گایا ہوا وہ گیت مجھے بہت پسند ہے، اے دل ناداں۔ پھر مجھے گنگنا کر بھی سنایا اور کہا کہ یہ تمہارا ایسا گیت ہے، جو میں چاہوں بھی تو اس طرح سے شاید نہ گا سکوں۔‘‘

ڈوئچے ویلے کے ساتھ اپنے اس انٹرویو میں لتا منگیشکر نے اعتراف کیا کہ اُن کے چاہنے والے پاکستان میں بھی ہیں اور کبھی وہ اُن سے جا کر ملنا بھی چاہیں گی لیکن یہ کہ کبھی ایسے حالات ہی نہیں بنے کہ اُن کی یہ خواہش پوری ہوتی۔

DW.COM