1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لبنان کے لئے بین الاقوامی امن دَستے منظم کرنے کی تیاریاں زوروں پر

بُدھ 23 اگست کو فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں اسرائیلی وزیرِ خارجہ Zipi Livni نے اپنے فرانسیسی ہم منصب Philippe Douste-Blazy کے ساتھ ایک ملاقات میں بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ جنوبی لبنان میںجلد از جلد امن دَستے تعینات کرے کیونکہ اِسی صورت میں اسرائیل جنوبی لبنان سے اپنے دَستے واپس بلا سکتا ہے۔

اسرائیلی وزیرِ خارجہ Zipi Livni

اسرائیلی وزیرِ خارجہ Zipi Livni

اِدھر وفاقی جرمن وزیرِ دفاع فرانس یوزیف یُنگ نے یورپی یونین کے تمام رکن ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اَقوامِ متحدہ کے مجوزہ لبنان امن دَستے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ وہاں پائیدار امن قائم کیا جانا چاہیے۔

برسلز میں اِس وقت یورپی یونین کے 25 رکن ممالک کے سفارت کار لبنان امن دَستے کے موضوع پر آئندہ جمعے کے روز یورپی وُزرائے خارجہ کی مجوزہ کانفرنس کی تیاریاں کر رہے ہیں۔

اب تک اٹلی ، فرانس، جرمنی اور اسپین نے فوجی بھیجنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ چند ایک ممالک نے اِس بات کو ہدفِ تنقید بنایا ہے کہ اِس دَستے کے قطعی اختیارات کا تعین نہیں کیا گیا۔ دریں اثناء لبنانی وزیرِ اعظم فُواد سِنیورا نے امریکہ سے درخواست کی ہے کہ وہ لبنان کی سمندری اور فضائی ناکہ بندی ختم کرنے کےلئے اسرائیل پر دباﺅ ڈالے۔

اِسی دوران ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیل پر الزام عاید کیا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف جنگ کے دوران اُس نے جان بوجھ کر شہریوں کو نشانہ بنایا۔ ایمنسٹی کے مطابق بہت سے حقائق اِس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ رہائشی عمارات، بجلی گھروں اور کارخانوں کو جان بوجھ کر تباہ کیا گیا۔

ایمنسٹی نے اقوامِ متحدہ پر زور دیا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کی جانب سے بین الاقوامی قوانین کی ممکنہ خلاف ورزی کی تحقیقات کروائی جائیں۔ اسرائیل نے ایمنسٹی کے الزامات کو ردّ کر دیا ہے۔ اِس سے پہلے اسرائیل نے کہا تھا کہ لبنانی شہریوں کو فضا سے پرچیاں پھینک کر پیشگی خبردار کر دیا گیا تھا۔

دریں اثناء اسرائیلی وزیرِاعظم ایہوداولمرٹ نے ایک فہرست جاری کی ہے، جس میںچار ہفتوں تک جاری رہنے والے اِس تنازعے کی تحقیقات کے مختلف امکانات کا ذکر کیا گیا ہے۔