1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لبنان کےلئے اَقوامِ متحدہ کے مجوزہ امن دَستے کےلئے تقریباً سات ہزالر یورپی فوجی

لبنان کےلئے اَقوامِ متحدہ کے مجوزہ امن دَستے کےلئے مختلف ممالک کے 15 ہزار فوجی بھیجنے کا پروگرام بنایا گیا ہے۔ یورپی ممالک اِس سلسلے میں کیا کردار ادا کرسکتے ہیں، اِس موضوع پر ایک خصوصی کانفرنس کل جمعے کی شام بیلجیئم کے دارالحکومت اور یورپی یونین کے ہیڈ کوارٹر برسلز میں منعقد ہوئی، جس میں یونین کے وُزرائے خارجہ کے ساتھ ساتھ اَقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان بھی موجود تھے۔ اجلاس میں یورپی ممالک کی طرف سے ت

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان برسلز میں جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر کے ساتھ

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کوفی عنان برسلز میں جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر کے ساتھ

قریباً سات ہزالر فوجی فراہم کئے جانے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کوفی عنان نے کہا کہ یہ کانفرنس اپنے مقصد میں کامیاب رہی اور یہاں شریک ملکوں نے امن دَستے کی نصف نفری فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے، جن میں بری دَستوں کے ساتھ ساتھ بحری اور فضائی دَستے بھی شامل ہیں۔

اِس دَستے کی نگرانی فرانس کو سونپے جانے کا ذکر کرتے ہوئے عنان نے کہا، اُنہوں نے فرانس سے یہ درخواست کی ہے کہ فروری سن 2007ء کے اواخر تک وہ اِس دَستے یعنی Unifil ٹو کی قیادت سنبھال لے۔ اِس کے بعد یہ ذمہ داریاں اٹلی کو منتقل ہو جائیں گی۔ کوفی عنان امن دَستے کی دیگر تفصیلات طَے کرنے کے لئے پیر کو لبنان کے دَورے پر روانہ ہو جائیں گے۔

کوفی عنان شیعہ ملیشیا حزب اللہ کو ہتھیار فراہم کرنے والے ملکوں ایران اور شام کو بھی تنازعے کے سیاسی حل میں شریک کرنا چاہتے ہیں۔ عنان نے برسلز میں کہا کہ حزب اللہ کو جبری طور پر غیر مسلح کرنا امن دَستے کے فرائض میں شامل نہیں ہے اور اِس مسئلے کو احسن طریقے سے حل کرنے کا کام وہ لبنان کی بیروت حکومت کے سپرد کرنا چاہتے ہیں۔

برسلز سے ڈوئچے وَیلے کے تبصرہ نگار Bernd Riegert نے کل کی کانفرنس کے نتائج کو ایک اچھی خبر قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یورپی ممالک کا اب تک کا تذبذب بلا جواز نہیں تھا بلکہ وہ اِس دَستے کو ٹھوس اختیارات سے لیس دیکھنا چاہتے تھے۔ اور اگر اب بھی حزب اللہ کو غیر مسلح کرتے ہوئے تنازعے کا کوئی پائدار حل تلاش نہ کیا جا سکا تو پھریورپی ممالک کو لبنان میں ایک طویل قیام کے لئے تیار ہو جانا چاہیے کیونکہ پہلے امن دَستے یعنی Unifil One کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان واقع سرحد کی نگرانی کرتے کرتے تیس برس بیت چکے ہیں۔