1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لبنان میں شامی مہاجرین کے کیمپ میں آتشزدگی، تین ہلاک

مشرقی لبنان میں واقع شامی مہاجرین کے ایک کیمپ میں آتشزدگی کے نتیجے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی حکام کے مطابق آگ لگنے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی۔

لبنانی طبی ذرائع نے بتایا ہے کہ البقاع وادی میں واقع شامی مہاجرین کے ایک کیمپ میں لگنے والی آگ سے ہلاکتوں کے علاوہ ایک شخص بری طرح جھلس کر زخمی بھی ہوا ہے۔ یہ کیمپ وادی کے قصبے کعب الیاس کے قریب قائم ہے۔ مہاجرین کے مطابق جل کر ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔

انٹرنیشنل ریڈ کراس کے مطابق آتشزدگی کے باعث ایک شخص ہلاک اور چھ زخمی ہوئے ہیں۔ آگ لگنے کے بعد تقریباً سات سو افراد کو اِس کیمپ سے محفوظ انداز میں ایک اور مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔ ریڈ کراس نے ہلاک ہونے والے مہاجرین کی عمر اور زخمیوں کی حالت بارے کوئی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔

لبنانی ٹیلی وژن فوٹیج سے محسوس ہوتا ہے کہ آگ لگنے سے قبل ایک دھماکا بھی ہوا تھا۔ اس دھماکے کے بارے میں واضح نہیں کہ یہ کسی بارودی مواد کے پھٹنے کا نتیجہ تھا یا پھر کوئی گیس سلنڈر پھٹا تھا۔

Syrische Flüchtlinge im Libanon (picture alliance/AP Photo)

لبنان میں 1.2 ملین شامی مہاجرین آباد ہیں

نیوز ایجنسی روئٹرز کے ویڈیو فوٹیج سے بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آگ لگنے سے  سارا کیمپ تباہ ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کیمپ میں 93 خیمے تھے اور جن میں سے صرف تین محفوظ رہے ہیں۔ ایک شامی مہاجر کے مطابق اس کیمپ میں رہنے والے زیادہ تر مہاجرین کا تعلق الرقہ شہر سے ہے۔ شام کے شہر الرقہ ہی کو دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے اپنی خود ساختہ خلافت کا مرکز اور دارالخلافہ قرار دے رکھا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے UNHCR کے لبنانی دفتر کی ترجمان دانا سلیمان کا کہنا ہے کہ مہاجر کیمپ میں لگنے والے آگ سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ لگانے کے ساتھ ساتھ ماہرین اس کا بھی تعین کریں گے کہ یہ آگ کیسے لگی۔ ترجمان کے مطابق ابتدائی جائزوں کے مطابق آگ ایک چولہے کے پھٹنے سے لگی تھی لیکن ابھی اس کا حتمی تعین ہونا باقی ہے۔ دانا سلیمان نے یہ بھی بتایا ہے کہ ابتدائی جائزہ مکمل ہونے کے فوری بعد متاثرہ مہاجر خاندانوں کی امداد کا عمل شروع کر دیا جائے گا۔

لبنان میں 1.2 ملین شامی مہاجرین آباد ہیں، جن میں سے زیادہ تر ملک کے مشرقی علاقوں میں عارضی کیمپوں میں رہتے ہیں۔