1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لبنان: سابق وزیر اطلاعات کو تیرہ سال کی قید بامشقت

لبنان کی ملٹری کورٹ نے سابق وزیر اطلاعات میشال سماحہ کو دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کے جرم میں تیرہ سال قید بامشقت کی سزا سنا دی ہے۔

فوجی عدالت کی طرف سے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو دی گئی اطلاعات کے مطابق میشال کو یہ سزا لبنان میں سیاسی اور مذہبی شخصیات پر حملوں کے لیے شامی سکیورٹی سروسز کی مدد سے دھماکہ خیز مواد کی ترسیل کے جرم کا ارتکاب کرنے کے سبب سنائی گئی ہے۔

اس سابق لبنانی وزیر کو 2012 ء میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں مئی 2015 ء میں ساڑھے چار سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھی تاہم اس سزا کو ایک ماہ بعد ہی منسوخ کر کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم دے دیا گیا تھا۔

عدالتی بیان میں کہا گیا کہ،’’استغاثہ نے پہلے سزائے موت سنائی تھی لیکن بعد میں اس سزا کو 13 سال کی قید بامشقت میں تبدیل کر دیا گیا۔‘‘

لبنان کے قوانین کے تحت میشال سماحہ کی قید کی سزا کی اصل مُدت 10 سال بنتی ہے۔ ذرائع کے مطابق سابق وزیر کو ووٹ ڈالنے اور کسی عوامی عہدے کے لیے کھڑے ہونے کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے۔

Symbolbild Kämpfe in palästinensischen Flüchtlingslager im Libanon

لبنان میں قائم فلسطینی پناہ گزینوں کےکیمپوں میں اکثر جھڑپیں ہوتی ہیں

کرسچین سیاستدان میشال سماحہ شامی صدر بشار الاسد کے سابق مشیر رہ چُکے ہیں۔ اس کے علاوہ 1992ء سے 1995ء کے درمیان وہ ملک کے وزیر اطلاعات رہے تھے۔

اپنے پچھلے مقدمے کی سماعت کے دوران انہوں نے لبنان میں حملوں کے استعمال کے لیے شام سے دھماکہ خیز مواد منتقل کرنے کے جرم کا اعتراف کیا تھا لیکن انہوں نے اس کی دلیل یہ پیش کی تھی کہ انہوں نے ایسا اس لیے کیا تھا کہ وہ ایسے حالات میں جکڑ گئے تھے جہاں اُن کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا اس لیے انہیں بری کر دیا جانا چاہیے۔

اُدھر لبنان کے ایک چوٹی کے سُنی سیاستدان اور سابق وزیر اعظم سعد حریری جن کے والد اور سابقہ لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری 2005 ء میں بیروت میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں مارے گئے تھے، نے میشال سماحہ کی سزائے قید کے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کیا اور ٹوئٹ پر اپنے پیغام میں یوں کہا ہے،’’دہشت گرد سماحہ آج دوبارہ زندان پہنچ جائے گا یہی ایسے انسان کے لیے موزوں ترین جگہ ہے جو معصوم جانوں کے قتل کا منصوبہ بنا رہا ہو اور جس نے لبنان کو فرقہ واریت اور خانہ جنگی کا گہوارا بنا دیا۔‘‘

اُدھر لبنان کے وزیر صحت وائل ابو فاؤر نے میشال سماحہ کو سنائی جانے والی سزا کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا،’’یہ دمشق کی مجرم حکومت کے مُنہ پر طمانچہ ہے‘‘۔

Libanon Feierlichkeiten 10 Jahre nach Tod von Rafiq Hariri

سابقہ لبنانی وزیر اعظم رفیق حریری 2005 ء میں بیروت میں ایک بم دھماکے کے نتیجے میں مارے گئے تھے

شام 1975ء تا 1990ء خانہ جنگی کے دور میں قریب 30 سالوں تک لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے۔ 2005 ء میں حریری کے قتل کے بعد لبنان میں بڑے پیمانے پر ہونے والے عوامی مظاہروں کے دباؤ میں شام نے لبنان سے اپنے فوجی دستے ہٹائے تھے۔ حریری کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام شیعہ عسکریت پسند گروپ حزب اللہ اور اُس کے تہران اور دمشق میں موجود حامیوں پر عائد کیا جاتا ہے۔

شام میں 2011 ء سے شروع ہونے والی خانہ جنگی کے حوالے سے اب تک بیروت حکومت نے سرکاری طور پر ایک غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔

DW.COM