1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

لبنان : خود کش حملوں کے بعد مہاجر کيمپوں کی تلاشی

لبنان ميں پير کے روز ہونے والے متعدد خود کش دھماکوں کے بعد فوج نے شامی سرحد کے قريب متعلقہ علاقے ميں کارروائی شروع کردی ہے اور متعدد مقامات اور تنصيبات کی تلاشی کا کام جاری ہے۔

حاليہ خود کش حملوں کے رد عمل ميں لبنانی فوجی دستوں نے شامی سرحد پر واقع عارضی مہاجر کيمپوں پر منگل اٹھائيس جون کو دھاوا بول ديا۔ القاع نامی گاؤں کے ميئر بشير ماتار نے اس بارے ميں بات چيت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم فکر مند ہيں کہ مزيد دہشت گرد چھپے ہو سکتے ہيں۔ اسی ليے لبنانی فوج علاقے کی تلاشی لے رہی ہے۔‘‘

القاع ميں پير ستائيس جون کو الصبح چار خود کش بمباروں نے کارروائی کرتے ہوئے پانچ افراد کو ہلاک جبکہ پندرہ ديگر کو زخمی کر ديا تھا۔ بعد ازاں پير کی رات مزید چار خود کش بمباروں نے مختلف کارروائيوں ميں تيرہ افراد کو زخمی کر ديا۔ القاع نامی يہ گاؤں اس مرکزی شاہراہ پر واقع ہے، جو القصير نامی شامی شہر اور لبنان کی مشرقی وادی بقاع کو ملاتی ہے۔ تين ہزار افراد کی آبادی والا يہ اکثريتی طور پر مسيحی گاؤں ہے تاہم ضلعے ميں سنی مسلمان آباد ہيں اور قريب تيس ہزار شامی پناہ گزينوں نے القاع گاؤں کے باہر عارضی خيمے لگا رکھے ہيں۔

لبنان کی سرکاری نيوز ايجنسی کے مطابق فوج کی بھاری نفری تعينات کر دی گئی ہے اور پورے کے پورے ضلعے ميں وسيع پيمانے پر تلاشی کا کام جاری ہے۔ عارضی کيمپوں ميں مطلوبہ افراد اور ہتھياروں کی تلاش جاری ہے۔ فوجی بيان کے مطابق تاريخی اہميت کے حامل مشرقی لبنانی شہر بعلبک ميں مہاجر کيمپوں پر چھاپے مارے گئے اور ايک سو سے زائد ايسے شامی شہريوں کو حراست ميں لے ليا گيا، جو غير قانونی طور پر لبنانی سرزمين پر موجود تھے۔

لبنان ميں ايک ملين سے زائد شامی مہاجرين نے پناہ لے رکھی ہے، جو بحيرہء روم کی اس چھوٹی سی رياست کی کُل آبادی کے ايک چوتھائی حصے کے برابر ہے۔ لبنانی شيعہ تحريک حزب اللہ نے وادی بقاع اور بعلبک کی درميانی شاہراہ پر گاڑيوں کی تلاشی لينے کے ليے سينکڑوں غير سرکاری چيک پوائنٹس تعمير کر رکھے ہيں۔ يہ تنظيم شامی صدر بشار الاسد کی حامی ہے اور ان کے ليے ہزاروں جنگجو روانہ کر چکی ہے۔

تاحال پير کے روز لبنان ميں ہونے والے سلسلہ وار خود کش حملوں کی ذمہ کسی نے قبول نہيں کی ہے ليکن عموماً ايسے حملے اسلامک اسٹيٹ اور القاعدہ جيسے دہشت گرد گروہ ہی کرتے ہيں۔