1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لبنان اور شام سے متعلق وکی لیکس کا انکشاف

وکی لیکس کی جانب سے خفیہ امریکی سفارتی کیبلز میں انکشاف ہوا ہے کہ شام میں جاری حکومت مخالف مظاہروں کے پیچھے پڑوسی ملک لبنان کی سابق حکومت کا ہاتھ بھی ہوسکتا ہے۔

default

شام میں دہائیوں سے برسر اقتدار قیادت کے خلاف مظاہروں میں شدت دیکھی جا رہی ہے۔ وکی لیکس کے عربی زبان کے ساتھی ادارے الاخبار نے جمعہ کو انکشاف کیا کہ سابق لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری چاہتے تھے کہ بین الاقوامی سطح پر شام کو تنہا کیا جائے اور وہاں کی موجودہ حکومت کو اخوان المسلمین یا وہاں کے چند سابق لیکن فی الوقت جلاوطن رہنماوں سے بدل دیا جائے۔ مصر کی طرح شام میں بھی اخوان المسلین پر پابندی عائد ہے۔ سُنی اکثریتی آبادی والے ملک شام میں گزشتہ پانچ دہائیوں سے شیعہ عقیدے کے حکمران اقتدار میں ہیں۔

شام پر بھی یہ الزام لگتا رہا ہے کہ وہ لبنان میں سخت نظریات کی حامل جماعت حزب اللہ کو مالی اور عسکری تعاون فراہم کرتا ہے۔سابق لبنانی وزیر اعظم سعد الحریری کے متعلق بتایا گیا ہے کہ وہ اخوان المسلمین کو ترکی کے معتدل اسلام پسندوں جیسا سمجھتے ہیں جو اپنی و ملکی قیادت میں خواتین اور مسیحیوں کی نمائندگی اور اسرائیل کے ساتھ امن کے حامی ہیں۔

Syrien Präsident Bashar Assad und Premierminister Saad Hariri Libanon Flash-Galerie

لبنان کے سابق وزیر اعظم سعد الحریری شامی صدر بشار الاسد کے ہمراہ، فائل فوٹو

الاخبار نے بیروت کے امریکی سفارتخانے سے 24 اگست 2006ء کو بھیجی گئی ایک سفارتی کیبل کو بنیاد بنا کر اپنی یہ رپوٹ شائع کی ہے۔ یہ ایران اور شام کی حمایت یافتہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان لڑی جانے والی جنگ ختم ہونے کے ٹھیک دس دن بعد کی کیبل ہے۔ کیبل کے مطابق سعد الحریری نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا تھا کہ شامی صدر بشار الاسد کو تنہا کر دیا جائے۔ الحریری نے امریکی حکام پر واضح کردیا تھا کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو لبنان میں حالات بگڑ جائیں گے۔

واضح رہے کہ شامی فوج 29 سال تک لبنان میں رہنے کے بعد 2005ء میں وہاں سے واپس ہوئی تھی۔ اسی سال 14 فروری کو سابق لبنانی وزیر اعظم رفیق الحریری کا قتل ہوا تھا جس کا الزام بھی شام اور اس کی حمایت یافتہ حزب اللہ پر لگایا جاتا ہے تاہم شامی حکومت اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔

مشرق وسطیٰ کے ان دونوں عرب ممالک کے درمیان ایک بات البتہ مشترک ہے کہ دونوں نے ہی تاحال اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا معاہدہ طے نہیں کیا اور تکنیکی طور پر اب بھی وہ اسرائیل کے ساتھ حالت جنگ میں ہیں۔ 2009ء میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد رفیق الحریری کے بیٹے سعد الحریری نے شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوشش کی تھی تاہم رواں سال جنوری میں شیعہ تنظیم حزب اللہ کی طرف سے حمایت ترک کیے جانے کے بعد ان کی حکومت زوال کا شکار ہوگئی۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: مقبول ملک

DW.COM