1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لبنان امن مشن میں چین کی شرکت

اِس سال کے آغاز پر چین نے انپے 180 امن فوجی لبنان بھیجے تھے جبکہ اب چینی حکومت نے اپنے اِن فوجیوں کی تعداد بڑھا کر ایک ہزار کر دی ہے۔ چین کے لبنان اور اسرائیل دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ بیجنگ کے بین الاقوامی تعلقات کے ایک ماہر ژِن کان رونگ کے مطابق چین امن فوجی بھیج کر یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کے طور پر چین دُنیا میں اپنی ذمہ داری سنبھالنے کےلئے تیار ہے۔

default

ژِن کان رونگ کے خیال میں یہ دَستے یورپی ممالک کے کہنے پر بھیجے جا رہے ہیں۔ لبنان کے لئے امن دَستے روانہ کرنے کے سلسلے میں اقوامِ متحدہ کے فیصلے پر عملدرآمد کے سلسلے میں نمایاں حصہ یورپی یونین کا ہے، جس نے7 ہزار فوجی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے تاہم یہ تعداد امن مشن کے لئے مطلوبہ اصل تعداد پندرہ ہزار سے کہیں کم ہے۔ ایسے میں اگر چین بھی اِس میں شرکت کر لیتا ہے تو امن دَستے کی نفری کافی حد تک متوازن ہو جائے گی۔

اقوامِ متحدہ کے امن مشنوں میں شرکت کا سلسلہ چین نے کہیں 1989ء میں آ کر شروع کیا۔ پہلے پہل صرف فوجی مبصرین بھیجے گئے، پھر اقوامِ متحدہ کے ایک مشن کے سلسلے میں چین نے اپنے ہمسایہ ملک کمبوڈیا میں 800 چینی انجینئر بھیجے، جس کے بعد کونگو کے لئے بھی چینی امن فوجی روانہ کئے گئے۔ آج کل صورت حال یہ ہے کہ سوڈان ہو یا کونگو، ہیٹی ہو یا کوسووو، تقریباً 6 ہزار چینی امن فوجی دُنیا بھر میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

بین الاقوامی امور کے چینی ماہر ژِن کان رونگ کہتے ہیں کہ اِس طرح کے امن مشنوں میں شرکت کے ذریعے چین یہ دکھانا چاہتا ہے کہ اُس کا احساسِ ذمہ داری بڑھتا جا رہا ہے۔ دیگر ملک چین کو شک و شبے کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ چین جتنا زیادہ طاقتور ہوتا جا رہا ہے، اتنا ہی زیادہ دیگر ممالک اُسے اپنے لئے ایک خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ ایسے میں امن مشنوں میں شرکت چین کی خارجہ سیاسی حکمتِ عملی کا ایک حصہ ہے تاکہ دُنیا پر واضح کیا جا سکے کہ درحقیقت چین اپنی ذمہ داریوں کا شعور رکھنے والا ملک ہے۔

مختلف امن مشنوں میں چین کی شرکت اور تنازعات کے پر امن حل کے لئے اُس کی سرگرمیاں اپنی جگہ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ چین ابھی تک سیاسی معاملات میں کوئی ٹھوس مَوقِف اختیار کرنے سے گریز کر رہا ہے، جس کی ایک مثال ایران اور شمالی کوریا کے ایٹمی تنازعات ہیں۔ ان دونوں ملکوں کے ساتھ اقتصادی تعلقات چین کو اتنے عزیز ہیں کہ وہ ان ملکوں کے خلاف اقتصادی پابندیوں کو مسترد کر رہا ہے۔

چین کی طرف سے لبنان کے امن مشن میں ایک ہزار فوجی بھیجنے کا اقدام مختلف مقاصد لئے ہوئے ہے اور اُسے اُمید ہے کہ ایسا کرنے سے اُسے کئی ایک سیاسی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ مثلاً وہ ایران اور شمالی کوریا کے حوالے سے اپنے مَوقِف سے دُنیا کی توجہ ہٹا سکتا ہے اور ساتھ ساتھ اُس کی یہ بھی کوشش ہے کہ دُنیا چین میں انسانی حقوق کی خراب صورت حال یا پھر چین میں پریس کی آزادی کے فقدان جیسے معاملات کو بھی بحث مباحثے کا موضوع نہ بنائے۔