1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لبنانی خاتون مقدمہ جیت گئیں، بچوں کو شہریت مل گئی

تقریبا تمام عرب ملکوں میں ایسے قوانین رائج ہیں کہ وہاں کی خواتین اپنے بچوں کو اپنے آباتی ملک کی شہریت دینے کا حق نہیں رکھتیں۔ اِن بچوں کو اپنی ماؤں کے آبائی ملکوں میں غیر ملکی تصور کیا جاتا ہے۔

default

عرب ممالک میں صرف والد کی شہریت بچوں کو منتقل ہوتی ہے

یہ صورتِ حال ان بچوں کے لئے اچھی خاصی پیچیدگیاں لے کر آتی ہے۔ اب لبنان میں پہلی مرتبہ ایک عدالت نے ایک ماں کا یہ حق تسلیم کیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنے آبائی ملک کی شہریت منتقل کر سکتی ہے۔ عرب دُنیا میں امتیازی سلوک کے خلاف طویل عرصے سے جدوجہد کرتی چلی آ رہی خواتین کی تنظیموں کے لئے یہ ایک پہلی کامیابی ہے۔

غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والی پینتالیس سالہ سمیرہ سوائیدان نے لبنانی ریاست کے خلاف اپنا کیس جیت لیا ہے۔ یہ کامیابی اتنی بڑی اور غیر متتوقع ہے کہ اُسے اتنے روز گذر جانے کے بعد بھی اِس پر یقین نہیں آ رہا ہے۔ اُس نے عدالت میں یہ درخواست دائر کی تھی کہ اُس کے چاروں بچوں کو بھی لبنانی شہریت ملنی چاہیے۔

’’اب میرے بچوں کی زندگیاں بدل جائیں گی۔ اب وہ قانونی طور پر کام کر سکتے ہیں، سوشل انشورنس کے نظام کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اُنہیں اب مزید پولیس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب وہ لبنانی شہری نہیں تھے تو مجھے ہر سال اُن کے قیام کے لئے دو سو امریکی ڈالر ادا کرنا پڑتے تھے۔ ایک بار مجھے اِس ادائیگی میں ایک ماہ کی تاخیر ہو گئی تو حکام میرے بچوں کو جبری طور پر ملک سے نکال دینے کا سوچنے لگے۔ مجھے بھی کہا گیا کہ تم بھی اِن کے ساتھ ہی جا سکتی ہو۔ مَیں روتی رہی اور مجھے سات سو ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ یہ رقم بھی مَیں نے کہیں سے ادھار لی۔ عدالت کے فیصلے پر مجھے یقین نہیں آ رہا۔ مَیں بہت خوش ہوں، اتنی خوش کہ میرے آنسو نکل آتے ہیں۔‘‘

لبنان سے تعلق رکھنے والی سمیرہ سوائیدان نے اَسی کے عشرے کے وَسط میں ایک مصری باشندے سے شادی کی تھی۔ اُن کے چار بچے ہوئے۔ اگرچہ یہ کنبہ لبنان میں رہتا ہے لیکن بچوں کو محض اپنے والد کے مصری شناختی کارڈ ملے۔ 1994ء میں اپنے شوہر کے انتقال کے بعد سمیرہ پر ہی پورے کنبے کی ذمہ داری آن پڑی۔ وہ صفائی کا کام کر کے اپنی یہ ذمہ داریاں پوری کرتی رہی۔ جب اپنے بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک اُس سے مزید برداشت نہ ہوا تو اُس نے عدالت میں درخواست دینے کا فیصلہ کیا۔

لبنان کے شہریت سے متعلق 1925ء کے قانون کے آرٹیکل نمبر ایک میں لکھا ہے کہ ایک لبنانی والد کے بچوں کو اپنے باپ کی شہریت ملے گی۔ وہاں خواتین کا سرے سے کوئی ذکر نہیں ہے۔ سمیرہ کی خاتون وکیل سُوہا اسماعیل کو شروع ہی سے یہ یقین تھا کہ یہ نکتہ کیس جیتنے میں مدد دے گا۔

’’میرے لئے یہ ایک انسانی مسئلہ بھی تھا اور ایک چیلنج بھی۔ اگرچہ ہمارے پاس شہریت سے متعلق لبنانی قانون کا آرٹیکل نمبر ایک موجود ہے لیکن اُس میں یہ کہیں نہیں لکھا کہ کوئی لبنانی خاتون اپنی شہریت اپنے بچوں کو منتقل نہیں کر سکتی۔ اِس کی مختلف تشریحات کی گئی ہیں، کچھ نے کہا، یہ ممکن ہے، کچھ نے کہا، نہیں۔‘‘

تقریباً تمام عرب ممالک میں غیر ملکیوں کے ساتھ شادی شُدہ خواتین کو اِسی مسئلے کا سامنا ہے۔ بچوں کو شہریت کی منتقلی کا حق صرف مردوں تک ہی محدود ہے۔ یہ بات اِن ملکوں کے آئین کے بھی منافی ہے اور اُن بین الاقوامی کنوینشنوں کے بھی، جن پر اِن ملکوں نے دستخط کر رکھے ہیں۔ ایسے میں متاثرہ کنبوں کو گوناگوں مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اِس امتیازی سلوک کے خلاف سن 2001ء میں مختلف عرب ملکوں کی خواتین کی تنظیموں نے جدوجہد شروع کی اور ایک تحریک کی بنیاد رکھی، جس کا عنوان تھا:’’میری شہریت، میرے اور میرے کنبے کے لئے۔‘‘ اِس تحریک کی رابطہ کار لِینا ابو حبیب بتاتی ہیں: ’’جب ہم نے کام شروع کیا تو ہمیں پتہ چلا کہ ہمیں بہت سی بنیادی قسم کی معلومات میسر نہیں ہیں۔ چنانچہ ہم نے چھ ممالک میں ایک جائزہ مرتب کروایا کہ یہ قانون کیسے وجود میں آئے اور بین الاقوامی سمجھوتوں سے کس حد تک ہم آہنگ ہیں۔ ہم نے متاثرہ خاندانوں کی تعداد کے بارے میں بھی اعدادوشمار جمع کئے۔ مختلف مثالوں کو سامنے رکھتے ہوئے ہم نے واضح کیا کہ شہریت کی بچوں کو منتقلی کے حق کی پاسداری نہ کرنے سے اور کئی طرح کا امتیازی سلوک سامنے آ رہا تھا۔ ہمارے جمع کردہ کوائف سے یہ بھی واضح ہو گیا کہ درحقیقت کتنی خواتین اپنے حق کے لئے لڑ رہی تھیں۔‘‘

گذشتہ چند برسوں کے دوران صرف تین ملکوں میں شہریت کے قوانین میں تبدیلیاں متعارف کروائی گئی ہیں۔ اِس سلسلے میں مثالی قانون الجزائر کا ہے، جو قانون کی تبدیلی سے پہلے کے کیسوں میں بھی الجزائر کی خواتین کے بچوں اور شوہروں کو ملکی شہریت کا حق دیتا ہے۔ دیگر دو ممالک مراکش اور مصر ہیں۔ عرب دُنیا میں خواتین کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فلسطینی یا سوڈانی مردوں کے ساتھ شادی کرنے والی خواتین کو بدستور بے پناہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔



تفصیلات : مونا نجار/ امجد علی

ادارت : مقبول ملک