1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لبنانی انتخابات کے نتائج پر دُنیا حیرت زدہ

لبنانی انتخابات کے نتائج نے واشنگٹن سے لندن اور ریاض سے لے کر تہران تک حزب اللہ کے حامی اور مخالف حکمرانوں، سفارت کاروں، سیاسی ماہرین اور عام شہریوں تک کو حیرت میں ڈال رکھا ہے۔

default

لبنان میں انتخابی نتائج پر جشن

ان نتائج کے منظرعام پر آنے کے بعد اب دنیا بھر میں حزب اللہ کی مستقبل کی پالیسی کے بارے میں ایک نئی بحث بھی شروع ہوچکی ہے۔

حزب اللہ کی لبنانی الیکشن میں ناکامی کے بعد اس تنظیم کو لبنان کے اکثریتی طور پر شیعہ آبادی والے علاقوں میں ابھی تک عوامی حمایت حاصل ہے۔ لیکن بین الاقوامی تجزیہ نگاروں کے لئے یہی حمایت اب ایک اہم سوال بنتی جارہی ہے۔

امریکی ماہرین کا کہنا ہے کہ حسن نصراللہ کی قیادت میں حزب اللہ کی طاقت میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ اس کی ایک واضح مثال یہ ہے کہ حالیہ انتخابات میں لبرل سنی رہنما سعد الحریری اور ان

Saad Hariri, Wahlsieger im Libanon

سعد الحریری

کے اتحادیوں کی کامیابی بھی حزب اللہ کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہ کرسکی۔ حزب اللہ امریکی انتظامیہ کی جاری کردہ دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل ہے، جبکہ وائٹ ہاوس اور اسرائیل نے کافی مرتبہ اس پر ایران اور شام سے راکٹ اور ہتھیار لینے کا الزام بھی لگایا ہے۔

سعد الحریری اور ان کے اتحادیوں نے حالیہ انتخابات میں حزب اللہ کی 57 نشستوں کے مقابلے میں 71 نشستیں حاصل کی تھیں تاہم بیشتر عرب سیاسی تجزیہ نگار اسے حزب اللہ کی شکست کے بجائے اس کے اتحادیوں کی ہار قرار دے رہے ہیں۔ حزب اللہ کی اتحادی جماعتوں میں شیعہ عمل گروپ اور شدت پسند عیسائی رہنما میشل عون کی جماعت شامل ہیں، جن کو ان کے انتخابی حلقوں میں سعد الحریری کے اتحادیوں نے زبردست ناکامی سے دوچار کیا تھا۔

Hassan Nasrallah spricht im TV

حزب اللہ کے حامی حسن نصراللہ کا خطاب سن رہے ہیں

حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ الیکشن کے نتائج کو کھلے دل سے تسلیم تو کرچکے ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کردیا ہے کہ ان کی جماعت لبنان میں جمہوری عمل میں، پوری قوت کے ساتھ اپنے تنظیمی اور فلاحی کام جاری رکھے گی۔

اب شیخ نصراللہ کے نائب نعیم قاسم نے کہا ہے کہ حزب اللہ نے انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہوئے نئی حکومت کے ساتھ تعاون کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعد الحریری کو بھی اب ریاستی امور میں حزب اللہ کے ساتھ کھلے دل سے تعاون کرنا ہوگا، تاکہ لبنان میں ریاستی طاقت کے استعمال اور عمومی سماجی حالات کو بہتر بنایا جاسکے۔ نعیم قاسم کے بقول اگر ایسا نہ ہوا تو حزب اللہ یہی اقدامات اپنے طور پر کرے گی۔

ماہرین کے مطابق حزب اللہ نے اگر انتخابی نتائج تسلیم کئے ہیں تو یوں اس نے دراصل جمہوری طور پر اسرائیل کے اس دعوے کو جھوٹا ثابت کردیا ہے کہ ایران نواز حزب اللہ کو پورے لبنان پر کنٹرول حاصل ہے۔