1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

لاہور کا قذافی اسٹیڈیم تماشائیوں کے شور سے گونج اٹھے گا

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں ان دنوں بہت گہما گہمی دکھائی دے رہی ہے۔ قذافی اسٹیڈیم کی تزئین و آرائش میں عملہ ہر طرف مصروف عمل ہے۔

پاکستان میں بین الاقوامی  کرکٹ میچوں کا انقعاد نہ ہو نے کی اصل وجہ سری لنکن ٹیم پر ہونے والا حملہ تھا جو پاکستان میں کرکٹ کی تاریخ کا ایک سیاہ دن تھا۔ تین مارچ 2009ء کو لاہور میں سری لنکا کی ٹیم پر ہونے والے ایک دہشت گرد حملے میں سری لنکن ٹیم کی حفاظت پر مامور آٹھ پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے تھے، جب کہ مہمان ٹیم کے متعدد کھلاڑی بھی زخمی ہوئے۔ اس کے بعد پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے تھے۔

ستائیس ہزار کی گنجائش رکھنے والے لاہور قدافی اسٹیڈیم نے سن 1996 کے کرکٹ ورلڈ کپ کی میزبانی بھی کی جس کا فائنل اسی گراؤنڈ میں سری لنکا اور آسٹریلیا کے مابین کھیلا گیا جس میں سری لنکا کی ٹیم نے کامیابی حاصل کی تھی۔

کرکٹ کی ورلڈ الیون پاکستان کے دورے پر، ڈپلیسی کپتان مقرر

ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم جلد پاکستان آ رہی ہے
ورلڈ الیون ٹیم میں شامل غیر ملکی کھلاڑیوں میں ہاشم آملا، تمیم اقبال، پال کالنگ وڈ، فاف ڈُپلیسی، مورنی مورکل، ڈیوڈ ملر، عمران طاہر، تھسرا پریرا، سیموئل بدری، ڈیرن سیمی، بین کٹنگ ، جارج بیلی، گرانٹ ایلیٹ اور ٹم پین شامل ہیں۔

 انگلینڈ کے سابق کوچ اینڈی فلاور ورلڈ الیون ٹیم کے کوچ ہوں گے اور فاف ڈُپلیسی پاکستان کے خلاف ورلڈ الیون ٹیم کے کپتان ہونگے جبکہ پاکستان ٹیم کی قیادت سرفراز احمد کرینگے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے پی سی بی کے ڈائریکٹر آپریشن ہارون رشید نے بتایا، ’’سری لنکن ٹیم پر حملہ بہت افسوس ناک تھا جس کے باعث ہمارے کرکٹ اسٹیڈیم ویران ہو گئے تھے۔‘‘

ورلڈ الیون کی ٹیم میں دنیا کے کئی مشہور کھلاڑی شامل ہیں۔ اس موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے جا رہے ہیں اور اسٹیڈیم کے اطراف تمام دکانوں کومیچ کو دوران بند رکھنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے قذافی اسٹیڈیم سے متصل مقامی ہوٹل کے منیجر توصیف سدوزئی نے کہا، ’’ہمارے لیے کاروبار میں چند دنوں کا نقصان بین الاقوامی کرکٹ کی محرومی سے زیادہ نہیں ہے۔‘‘

DW.COM