1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لاہور میں داتا گنج بخش کا عرس، سخت حفاظتی انتظامات

پاکستانی صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں برصغیر کے معروف صوفی بزرگ حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کا سالانہ عرس جاری ہے۔ ان کے نو سو سڑسٹھویں عرس کی تقریبات میں دس لاکھ سے زائد عقیدت مند شرکت کر رہے ہیں۔

default

گذشتہ برس داتا گنج بخش کے مزار اور اس سے ملحقہ مسجد میں خونریز دہشت گردی کے بعد پہلی مرتبہ ہونے والے اس عرس کے موقع پر سخت حفاظتی انتظامات دیکھنے میں آرہے ہیں۔

حضرت علی ہجویری کے سالانہ عرس کے موقع پرپہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ داتا دربار کو جانے والے تمام راستےتین دن کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔

No-Flash Selbstmordattentat in Pakistan

گزشتہ برس داتا دربار پر حملے کے بعد وہاں کا ایک منظر

ایس پی سٹی ٹریفک امتیاز سرور کے مطابق زائرین کی سکیورٹی کے پیش نظر دربار اور اس کے ارد گرد کے تمام علاقوں میں ہر قسم کی ٹریفک پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ زائرین اپنی گاڑیاں دور پارک کر کے پیدل دربار پہنچ رہے ہیں۔

داتا دربار آنے والوں کو ایک واک تھرو گیٹ سے گذارا جا رہا ہے اور دربار کے احاطے میں داخلے سے پہلے ان کی میٹل ڈیٹیکٹرز سے تلاشی بھی لی جا رہی ہے۔ دربار اور اس سے ملحقہ علاقوں میں سکیورٹی کیمرے بھی لگائے گئے ہیں۔

دربار پر آئے ہوئے عقیدت مندوں کی حفاظت کے لیے پولیس کی بھاری نفری کے علاوہ محکمہ اوقاف کے سکیورٹی گارڈز، رضا کار اور پرائیویٹ سکیورٹی ایجنسیوں کے اہلکار بھی ڈیوٹی دے رہے ہیں۔

ایس پی سٹی شہزاد آصف نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ دربار پر آنے والے لوگوں کی چار مرتبہ تلاشی لی جا رہی ہے۔ ’’دربار کے ارد گرد بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار بھی چیکنگ کر رہے ہیں۔ ایک کنٹرول روم بنا کر تیس سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے پورے علاقے کی لائیو مانیٹرنگ بھی کی جا رہی ہے۔‘‘

ان کے مطابق لاہور پولیس نے انتظامیہ سے علاقے کی فضائی نگرانی کی درخواست بھی کی ہے۔ علی ہجویری کے سالانہ عرس کے موقع پر حضرت امام حسین کے چہلم کی تقریبات کی وجہ سے بھی حفاظتی انتظامات سخت تر کر دیے جاتے ہیں۔

Pakistan Selbstmordanschlag

گزشتہ برس اسی دربار پر حملہ ہوا تھا

بعض تاجروں کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کی وجہ سے ان کی دکانیں بھی بند کرا دی گئی ہیں۔ پنجاب میں مذہبی امور کے ڈائریکٹر جنرل طاہر بخاری نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اس مرتبہ عرس کی تقریبات میں شرکت کے لیے نہ صرف ملک بھر سے پانچ سو سے زائد علماء، مشائخ اور نعت خواں شریک ہیں بلکہ دنیا کے دیگر ملکوں سے آئے ہوئے عقیدت مندوں کے علاوہ بھارت سے حضرت خواجہ معین الدین چشتی اور حضرت نظام الدین اولیاء کے درباروں کے سجادہ نشین بھی عرس کی تقریبات میں شریک ہیں۔ ان کے مطابق لوگ کسی ڈر اور خوف کے بغیر روایتی عقیدت اور محبت سے بڑی تعداد میں اس عرس کی تقریبات میں حصہ لے رہے ہیں۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس