1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاہور میں خود کش حملہ، کم از کم چھ افراد ہلاک

پاکستانی شہر لاہور میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں کم از کم  چھ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام نے بتایا ہے کہ اس واقعے میں دس افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

صوبہ پنجاب کی پولیس نے بتایا ہے کہ خود کش بمبار نے فوج کی ایک گاڑی کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ حکومت پنجاب کی جانب سے آج کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چھ بتائی جا رہی ہے اور ان میں چار فوجی اہلکار اور دو عام شہری شامل ہیں۔ ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کی نہیں کی ہے۔ پاکستانی صدر ممنون حسين اور وزير اعظم نواز شريف سميت دیگر سیاسی جماعتوں کے  رہنماؤں نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ 

مقامی ذرائع کے مطابق جس گاڑی کے قریب خود کش حملہ کیا گیا، اس میں مردم شماری  کا عملہ سوار تھا۔ اس سے قبل یہ بھی کہا گیا تھا کہ یہ دھماکہ مردم شماری کے عملے کی گاڑی میں سلنڈر پھٹنے کی وجہ سے ہوا تھا۔

حکومت پاکستان کی جانب سے گزشتہ مہینے ہی مردم شماری کا سلسلہ شروع کرايا گيا ہے۔ انیس سال بعد ہونے والی اس مردم شماری کے دوران فوج کے دو لاکھ جوان اس عمل کی نگرانی پر مامور ہیں۔ یہ سلسلہ پندرہ مئی تک جاری رہے گا۔

 یہ واقعہ لاہور کے بیدیاں روڈ پر پیش آیا۔ حکام نے بتایا ہے کہ دھماکے کے مقام پر شواہد اکھٹے کيے جا رہے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ نے ایک تازہ انٹرویو میں اس واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ہونے والی تقریباً تمام دہشت گردانہ کارروائیوں کی ذمہ داری جماعت الاحرار نامی تنظیم قبول کرتی رہی ہے۔ حکام کا خیال ہے کہ اس حملے میں بیس سے پچیس کلو بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا۔