1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاہور میں جناح ہسپتال پر حملہ، کم از کم چار افراد ہلاک

پاکستانی شہر لاہور کے ایک ہسپتال میں مسلح افراد کی فائرنگ سے چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس ہسپتال میں جمعے کے روز احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر حملوں میں زخمی ہونے والے افراد کا علاج کیا جا رہا تھا۔

default

لاہور شہر کے جناح ہسپتال کے مرکزی دروازے پر پیش آنے والے اس واقعے میں حملہ آوروں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ مقامی ڈاکٹروں کے مطابق اس ہسپتال میں زخمی حالت میں گرفتارکئے جانے والے حملہ آورکے علاوہ لاہور حملے میں زخمی ہونے والے 30 افراد داخل ہیں۔ اس سے قبل خبر رساں ادارے اے ایف پی نے جناح ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے حوالے سے ہلاک شدگان کی تعداد 12 بتائی تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتال پر اس حملے کا مقصد عسکریت پسندوں کی جانب سے اس ہپستال میں زیرعلاج اپنے ساتھی کی رہائی کی کوشش تھی، جو کامیاب نہیں ہو سکی۔

تفصیلات کے مطابق حملہ آوروں نے جناح ہسپتال میں داخل ہونے کی کوشش کی اور اس دوران سیکیورٹی فورسز اور ان دہشت گردوں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔حکام کے مطابق حملہ آور پولیس کی وردیوں میں ملبوس تھے۔ اس تازہ واقعے میں ہلاک ہونے والے افراد اس ہسپتال کے محافظ اور پولیس اہلکار ہیں۔

جمعے کے روز لاہور میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر خود کش جیکٹوں پہنے ہوئے شدت پسندوں نے خودکار ہتھیاروں اور دستی بموں سے حملہ کیا تھا۔ جمعے کی عبادت کے دوران پیش آنے والے ان واقعات میں 80 سے زائد افراد ہلاک جبکہ سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

Pakistan Angriff auf Moschee Garhi Shahu in Lahore

لاہور حملوں کے زخمیوں میں سے 30 جناح ہسپتال میں زیر علاج ہیں

جناح ہسپتال کے ایمرجنسی وارڈ کے باہر پیش آنے والے اس تازہ واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری نے ہسپتال کو اپنے گھیرے میں لے لیا ہے۔ حملہ آوروں کی شناخت کے حوالے سے فی الحال کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ جائے واقعہ پر موجود ایک پولیس اہلکار نے خبر رساں اداروں کو بتایا کہ حملہ آوروں کی شناخت کی جا رہی ہے ۔

جمعہ کو لاہور شہر میں احمدیوں کی دو عبادت گاہوں پر ان حملوں کو پاکستانی تاریخ کی بدترین دہشت گردانہ کارروائیوں میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل پاکستان کے شمال مغربی علاقے بنوں میں رواں برس جنوری میں ایک والی بال میچ کے دوران دہشت گردوں کی کارروائی میں سو سے زائد افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

لاہور حملے کی ذمہ داری پاکستانی پولیس نے تحریک طالبان پاکستان پر عائد کی تھی۔ لاہور حملوں کے بعد دو دہشت گردوں کو زندہ گرفتار کر لیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے گرفتار حملہ آوروں سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق ان حملہ آوروں کو شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کی تربیت دی گئی تھی۔

پاکستان میں انسانی حقوق کی ایک اہم تنظیم نے کہا ہے کہ ملک میں احمدی برادری کو ایک عرصے سے شدید نوعیت کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔ پاکستانی حکام کا دعویٰ ہے کہ شدت پسندوں کے حملوں کے نتیجے میں گزشتہ تین برسوں کے دوران مجموعی طور پر تین ہزار تین سو ستر شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM