1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

لاہور میں جاری کتب میلہ، ڈوئچے ویلے اردو کی شرکت

لوگوں میں کتب بینی کے رجحان کو فروغ دینے کے لئے پاکستان کےشہر لاہور میں ملک کا سب سے بڑا کتب میلہ جاری ہے۔ملک کے کئی حصو ں سے کتابوں کے شوقین لوگ بھی جوق در جوق اس میلے میں شرکت کر رہے ہیں۔

default

لاہور کے علاقے جوہر ٹاؤن میں نئے بنائے گئے جدید ترین ایکسپو سنٹر میں لگائے گئے اس میلے میں، رنگ برنگی کتابوں سے سجائے گئے ۲۰۰ سٹال موجود ہیں۔اس میلے میں لگایا جانے والا ڈوئچے ویلےکا اسٹال بھی لوگوں کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ نیلے غباروں سے ڈھکے ہوئے اور سلیقے سے سجائے ہوئے ڈوئچے ویلے کے سٹال پر ڈوئچے ویلےاردو سروس کی ویب سائٹ ،ریڈیو اور دیگر سہولتوں کے بارے میں شرکاء کو معلومات فراہم کی جارہی ہیں۔ پنجاب کے کئی شہروں میں قائم لسنرزکلب کے ارکان، ڈوئچے ویلےکی ویب سائٹ سے استفادہ کرنے والے قارئین اور عام لوگوں کا اس جگہ میلہ سا لگا ہوا ہے۔کوئی فیس بک پر ڈوئچے ویلےسےدوستی کی برقی حامی بھر رہا ہے، اور کوئی الیکٹرانک نیوزلیٹر سائن کر رہا ہے، کسی کو لٹریچر اور کسی کو تحائف دیے جارہے ہیں۔

Pakistan Lahore International Book Fair 2011

بُک فیر کا ایک منظر

اس میلے میں موجود دکانداروں کا کہنا ہے کہ کتابوں کی تیاری کی لاگت میں اضافہ، گاہکوں کی قوت خرید میں کمی اور حکومتوں کی عدم توجہ کی وجہ سے کتابوں کا کاروبار بری طرح سے متاثر ہوا ہے، کئی کتابیں چھاپنے والے سٹیشنری کے کاروبار کی طرف چلے گئے،کتابیں پڑھنے کے شوقین کچھ لوگوں نے کمپیوٹر اور ٹی وی کا رخ کرلیا اور وہ لوگ جو کبھی کتابوں میں پھول رکھا کرتے تھے،اب ان کے پاس نہ پھول حاصل کرنے کا وقت ہے اور نہ کتاب خریدنے کے استطاعت۔

پاکستان بک پبلشرز ایند بک سیلرز ایسوسی ایشن کے صدر نجم سیٹھی کو دکھ ہے کے حکومتوں کی سرپرستی نہ ہونے کے وجہ سے پاکستان میں کتب بینی کا رجحان فروغ نہیں پا سکتا۔

ان کے بقول قومی جی ڈی پی کا صرف دو ، ڈھائی فیصد تعلیم پر خرچ کرنے والی حکومتوں سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ کتابوں کے فروغ کے لئے کچھ خرچ کرے۔

Pakistan Lahore International Book Fair 2011

کتب میلے میں ڈوئچے ویلے اردو کا اسٹال

انہوں نے بتایا کے پاکستان جرمنی سے حاصل کئے گئے قرضے ادا نہیں کر سکا، جرمنی کی حکومت نے پاکستان سے کہا ہے کہ اگر وہ یہ پیسے لائبریریوں کے قیام اور لوگوں کو کتابوں کی فراہمی پر لگا دے، تو یہ قرضے معاف کر دیے جاییں گے۔جرمن فاؤنڈیشن نے کتابوں کے حوالے سےکئی منصوبے بنا کر حکومت کو جمع کرا رکھے ہیں، حکومت نہ توجرمنی کو پیسے دے رہی ہے، نہ ہی کتابوں پر لگا رہی ہے۔

ماورا پبلشرز کےچیف ایگزیکیٹوخالد شریف نے بتایا کی ٹیکسٹ بکس کے بعد پاکستان میں سب سے زیادہ شاعری کی کتابیں چھپتی ہیں، لیکن فروخت زیادہ تر سیاسی اور مذہبی کتابیں ہوتی ہیں۔آج کل لوگ سیلف ہیلپ اور پرسنل مینجمنٹ کی کتابیں بھی پڑھنے لگے ہیں۔

ادارہ علوم ابلاغیات کی استاد ڈاکٹر عفیرہ حامد کے مطابق آن لائن بکس اسٹورز ، ریڈنگ کلب،بک فیسٹول،الیکڑانک بکس اور موبائل بک شاپس کتابوں کی دنیا کے نئے رجحانات ہیں۔

کتابوں کے ایک تاجر سعید اللہ صدیق کہتے ہیں کے پاکستان میں کتابوں سے محبت کرنے والوں کی کوئی کمی نہیں۔ ان کے بقول آ ج کے اس دور میں بھی سرکاری ملازم ایسے بھی ہیں، جو مہینے کے شروع میں تنخواہ ملنے پر سب سے پہلے ان کی دوکان پر آکراپنے اور اپنے بچوں کے لئے کتابیں خریدتے ہیں، اور پھر گھر جاتے ہیں۔ان کے بقول یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ ابھی پانی سر سے نہیں گزرا ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عنبرین فاطمہ

DW.COM