1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

لاہور میں بین الاقوامی کتب میلے کا آغاز

پاکستان کے ثقافتی دارالحکومت لاہور میں ملک کا سب سے بڑا کتب میلہ جاری ہے۔ اس میلے میں امریکہ، برطانیہ، یورپ اور بھارت سے تعلق رکھنے والے اشاعتی اداروں نے بھی اپنے اپنے اسٹال لگا رکھے ہیں۔

default

وزیرِ اعلیٰ پنجاب شہباز شریف ڈوئچے ویلے کے اسٹال پر ڈوئچے ویلے کے اراکین سے گفتگو کرتے ہوئے

لاہور کے ایکسپو سینٹر میں ہونے والے اس بین الاقوامی کتب میلے کا اہتمام پاکستان بک پبلشرز ایسوسی ایشن کے ذیلی ادارےلاہور انٹرنیشنل بک فیئر ٹرسٹ نے کیا ہے۔ اس کتب میلے میں قریباً ہر موضوع پر لکھی جانے والی ہزاروں نئی کتابیں فروخت کے لیے رکھی گئی ہیں۔ پنجاب بھر سے اساتذہ، طلبہ، صحافیوں، کتاب دوست افراد اور دانشوروں کی بڑی تعداد جوق در جوق یہ میلہ دیکھنے آرہی ہے۔

Pakistan Lahore International Book Fair 2011

کتب میلے کا ایک منظر

اس میلے کے منتظم سلیم ملک نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ یہ کتب میلہ ایک سلور جوبلی ایونٹ ہے۔ اس میلے میں200 کے قریب اسٹال لگائے گئے ہیں۔

لاہور بک فیئر ٹرسٹ کے سربراہ زبیر سعید کے مطابق اس کتب میلے کا بنیا دی مقصد کتب بینی کے شوق کو فروغ دینا ہے۔

لاہور انٹرنیشنل بک فیئر ٹرسٹ کے سیکرٹری جنرل نجم سیٹھی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ پاکستان میں تعلیم پر بہت کم سرمایہ خرچ کیا جاتا ہے۔ اس لیے لایبریریوں کی گرانٹس بھی بھت کم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی بک سیلنگ انڈسٹری مشکل صورتِ حال کا سامنا کر رہی ہے۔

پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے جمعرات کی شام کتب میلے کا دورہ کیا۔ وہ خاص طور پر اس کتب میلے میں لگائے گئے ڈوئچے ویلے کے اسٹال پر گئے جہاں انہوں نے ڈوئچے ویلے کے عملے سے گفتگو بھی کی۔ اس موقع پر موجود بہت سے لوگ شہباز شریف کو جرمن زبان بولتے ہوئے دیکھ کر حیران رہ گئے۔

Pakistan Lahore International Book Fair 2011

ڈوئچے ویلے کی رکن سائرہ شیخ میلے میں شریک چند مہمانوں کے ساتھ

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف کا کہنا تھا: ’اس کتب میلے میں کتب کا خزانہ موجود ہے۔ تعلیم، قلم، اور تحریر کسی بھی قوم کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ پاکستان کے موجودہ حالات میں ڈوئچے ویلے کا پاکستان آکر اسٹال لگانا قابل تحسین ہے۔ میں ڈوئچے ویلے کی انتظامیہ کو اس پر مبارک باد دیتا ہوں‘۔

میلے میں شریک ایک خاتون شائستہ بابر کا کہنا تھا کہ حکومت کو نئی لایبریریوں کے قیام کے لیے زیادہ فنڈ مختص کرنا چاہیے۔

صوبائی وزیرِ تعلیم نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ حکومت نئی لایبریریوں کے قیام کے لیے منصوبے بنا رہی ہے۔

بھارت سے آئے ہوئےکتابوں کے ایک تاجر اشوک ببر نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے کتابوں کے تاجروں کو باہمی اشتراک کو فروغ دینے کے مواقع ملنے چاہییں اور انھیں ویزوں کے اجراء میں سہولتیں بھی ملنی چاہییں۔

اس کتب میلے کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں ڈوئچے ویلے نے بھی اپنا اسٹال لگا رکھا ہے۔ نیلے رنگ کے غباروں سے سجے اس خوبصورت اسٹال پر لوگ ڈوئچے ویلے کی اردو ویب سائٹ کے حوالے سےمعلومات حاصل کررہے ہیں۔ میلے کے شرکاء کو ویب سائٹ کے ایڈریس کے حامل تحائف بھی دیےجارہے ہیں۔

فیس بک پر ڈوئچے ویلے کو دوست بنانے اور نیوزلیٹر سائن کرنے کی سہولت بھی اس اسٹال پر موجود ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: شامل شمس

DW.COM