1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاہور میں امریکہ مخالف ریلی، صرف چند سو افراد کی شرکت

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں جمعرات کے روز دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے والے امریکی شہری کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ پاکستانی شہریوں کے قتل کے بعد لاہور میں ہونے والا یہ پہلا احتجاجی مظاہرہ تھا۔

default

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں جمعرات کے روز دو پاکستانی شہریوں کو قتل کرنے والے امریکی شہری کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ پاکستانی شہریوں کے قتل کے بعد لاہور میں ہونے والا یہ پہلا احتجاجی مظاہرہ تھا، جس میں امریکی شہری ریمونڈ ڈیوس کے ہاتھوں مارے جانے والے پاکستانیوں کے عزیزوں نے بھی شرکت کی۔

اس ریلی کے شرکاء واردات کی جگہ مزنگ چونگی پر اکھٹے ہوئے اور انھوں نے لاہور میں شملہ پہاڑی کے قریب واقع امریکی قونصل خانے کی عمارت تک احتجاجی مارچ کیا۔ شرکاء کی تعداد چار سوکے لگ بھگ تھی اور اس میں پاکستان تحریک انصاف، جماعت اسلامی اور امامیہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے کارکنوں کی شرکت نمایاں تھی۔ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) سمیت بڑی سیاسی جماعتوں نے اس ریلی میں شرکت نہیں کی۔

Pakistan Dänemark Muhammed Protest Verbrennung von Flagge

گزشتہ کئی امریکہ مخالف مظاہروں کی طرح اس مرتبہ بھی جماعت اسلامی، تحریک انصاف اور امامیہ اسٹوڈنٹ قیڈریشن کے کارکن نمایاں تھے

ریلی کے شرکا نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے، جن پر ڈیوس کو پھانسی دو اور گو امریکہ گو جیسے نعرے درج تھے۔ بعض شرکاء نے پاکستانی حکومت کے خلاف بھی نعرے لگائے۔اس موقع پر امریکی پرچم بھی نذر آتش کیا گیا۔

احتجاجی ریلی میں شریک مقتول فیضان حیدر کے بھائی عمران حیدر نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ وہ انصاف چاہتے ہیں۔ انھیں اپنے بھائی کے قاتلوں کے خلاف قانونی کارروائی چاہیے۔ ان کے بقول’’ پاکستانی حکومت سانحہ مزنگ کے ساتھ بے بنیاد باتوں کوجوڑ کے امریکی شہری کو بچانا چاہتی ہے‘‘۔ ان کے مطابق پاکستانی حکومت کے کسی اہلکار کو ان کے خاندان سے اظہار ہمدردی کے لیے ایک فون کال کرنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔

سانحہ مزنگ کے دوران امریکی شہری کی مدد کو آئی ہوئی ایک گاڑی کے نیچے آکر کچلے جانے والے پاکستانی نوجوان عبادالرحمن کے بھائی مشہود نے ڈوئچے ویلےکو بتایا کہ سات دن گزر جانے کے باوجود حکومت اس کے بھائی کے قاتلوں کو گرفتار نہیں کر سکی جوکہ ان کے لیے تکلیف کی بات ہے۔

ادھر لاہور کی کینٹ کچہری میں صبح سویرے عدالتوں کا وقت شروع ہونے سے بھی پہلے قاتل امریکی شہری کو ایک مجسٹریٹ ظفر سیال کی عدالت میں پیش کیا گیا عدالت نے اس کے ریمانڈ میں آٹھ روز کی توسیع کردی۔ اس موقعے پر ملزم کو بکتر بند گاڑی میں سوار کرا کے لایا گیا اورعام شہریوں اور میڈیا کے لوگوں کو عدالتی احاطے میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔

رپورٹ: تنویر شہزاد،لاہور

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس