1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

لاہور میں آلات موسیقی کی پینٹنگز کی منفرد نمائش

آج کل پاکستان کے ثقافتی دارالحکومت لاہور میں موسیقی کے آلات پر مبنی پینٹنگز کی ایک خوبصورت نمائش جاری ہے۔ اپنی نوعیت کی اس منفرد نمائش میں فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں مصوری، موسیقی اور رقص کو یکجا کر کے پیش کیاجا رہا ہے۔

default

اس نمائش میں رکھی گئی 47 پینٹنگز میں دنیا کے مختلف خطوں میں استعمال ہونے والے 80 کے قریب آلات موسیقی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان آلات میں گٹار، پیانو، ہارمونیم ، وائلن ، تانپورہ، رباب، بانسری، سارنگی، شہنائی، ڈگڈگی اور چمٹا بھی شامل ہیں۔

Weltmusikbilder Ausstellung Lahore

نمائش میں تصویروں کے ساتھ ساتھ ایسے ساز بجانے کے مظاہرے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے

لاہور کے الحمرا آرٹس سینٹر میں ہونے والی اس نما ئش کا اہتمام پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس نے عالمی موسیقی کے ایک امریکی عجائب گھر کے تعاون سے کیا ہے۔

یہ نمائش الحمرا آرٹ گیلری میں جاری ہے، ساتھ والے ہال میں موسیقی کے آلات کے استعمال کا عملی مظاہرہ ہو رہا ہے، ان آلات سے پیدا ہونے والی موسیقی پر رقص کا اہتمام بھی کیا گیا ہے۔ یوں فنون لطیفہ کے مختلف شعبے اکٹھے دکھائی دے رہے ہیں۔

اس نما ئش میں رکھی گئی تمام پینٹنگز پاکستان کی دو خاتون آرٹسٹوں آمنہ اسماعیل اور ثنا قاضی نے دو سالہ تحقیق کے بعد تیار کی ہیں۔

Weltmusikbilder Ausstellung Lahore

ایک فنکار اپنے چِمٹے کے ساتھ، نمائش میں رکھی گئی ایک پینٹنگ

آمنہ اسماعیل نے ڈوئچے ویلے کو بتایا: ’’موسیقی ایک عالمی زبان ہے۔ ایک گھنگرو بجتا ہے تو ہلکی سی آواز پیدا ہوتی ہے، کئی گھنگرو مل کر بجتے ہیں تو ان کی آواز دور تک سنائی دیتی ہے۔ اسی طرح ایک آدمی بولتا ہے تو اس کی آواز مدھم ہوتی ہے، لیکن جب کئی آدمی مل کر بولیں تو یہ آوازیں مل کر نعرہ بن جاتی ہیں۔ موسیقی کے آلات کی اس نمائش کے ذریعے ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دنیا بھر کے لوگ انسانیت کی فلاح کے لئے مختلف سازوں کی طرح اکٹھے ہو جائیں اور رسیلے گیتوں کی طرح ایک ایسی مؤثر کمپوزیشن اختیار کر لیں، جو دنیا کو بھلی لگے۔‘‘

Weltmusikbilder Ausstellung Lahore

نمائش کو دیکھنے والے شائقین

ثناء قاضی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ مصوری اور موسیقی اکٹھے ہوئے ہیں اور ان کے ملنے سے ایک ایسا گلدستہ وجود میں آیا ہے، جس کی مہک فنون لطیفہ کے شائقین کو دیر تک لبھاتی رہے گی۔

پندرہ نومبر تک جاری رہنے والی اس نمائش کی ساری آمدن سیلاب زدگان کو دی جائے گی۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس