1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لاہور سے امریکی شہری کے اغوا کو ایک ماہ ہو گیا

پاکستان میں ترقیاتی امور کے ماہر اس امریکی شہری کے بارے میں پائے جانے والے خدشات میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس کے پنجاب کے دارالحکومت لاہور سے اغوا کو آج منگل کے روز ٹھیک ایک ماہ ہو گیا ہے۔

default

ابھی تک مغوی کا کوئی نشان نہیں ملا ہے

یہ 70 سالہ امریکی شہری، جن کا نام وارین وائن سٹائن ہے، ایک امریکی مشاورتی فرم جے ای آسٹن کے پاکستان کے لیے کنٹری ڈائریکٹر ہیں، جنہیں اگست کی 13 تاریخ کو مسلح افراد نے ان کے گھر میں گھس کر اغوا کر لیا تھا۔ وارین وائن سٹائن کو کس نے اغوا کیا اور اس وقت وہ کہاں ہو سکتے ہیں، اس بارے میں پاکستانی پولیس ابھی تک کچھ بھی یقین سے کہہ سکنے کے قابل نہیں ہے۔

وارین وائن سٹائن کو اگست کے دوسرے نصف حصے میں واپس امریکہ لوٹ جانا تھا مگر گزشتہ مہینے کے دوسرے ہفتے کے آخری دنوں میں ہی انہیں اغوا کر لیا گیا، جس کے بعد سے اب تک ان کا کوئی پتہ نہیں چلا۔

پاکستانی پولیس اور اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کا کہنا ہے کہ وہ ابھی بھی وائن سٹائن کی ممکنہ رہائی کے سلسلے میں کسی بڑی پیش رفت سے بظاہر کافی دور ہیں۔ دوسری طرف پاکستانی حکام یہ کہنے سے بھی قاصر ہیں کہ آیا مغوی ابھی تک پاکستان ہی میں ہے، جہاں القاعدہ اور طالبان کے خونریز حملے اب معمول کی بات بن چکے ہیں۔

اس واقعے کی چھان بین کرنے والے ایک سرکاری اہلکار علی عامر ملک نے فرانسیسی خبر ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ تاحال اغوا کنندگان نے نہ تو کسی سے رابطہ کیا ہے اور نہ ہی یہ واضح کیا ہے کہ ان کے مطالبات کیا ہیں۔ علی ملک کے بقول تفتیشی اہلکار اس معاملے کا کئی مختلف پہلوؤں سے جائزہ لے رہے ہیں لیکن ان کے پاس ’یقین سے کچھ کہنے کے لیے ابھی بھی کچھ نہیں ہے‘۔

Raymond Davis

ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر بھی امریکہ اور پاکستان کے مابین کشیدگی پیدا ہوئی

پاکستان اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات کو اس سال کے دوران اب تک ایک سے زائد وجوہات کی بنا پر شدید دھچکہ پہنچا ہے۔ پہلے سی آئی اے کے ایک کنٹریکٹ اہلکار کے ہاتھوں دو پاکستانیوں کے قتل اور پھر اس امریکی اہلکار کی گرفتاری کا واقعہ اور پھر دو مئی کو ایبٹ آباد میں القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ پر امریکی فوج کا وہ خفیہ آپریشن، جس میں بن لادن تو مارا گیا تھا مگر جس کے بعد پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات میں کھچاؤ بہت واضح ہو گیا تھا۔

اسلام آباد میں امریکی سفارت خانہ اس امر کی تردید کرتا ہے کہ ان واقعات سے واشنگٹن کے اسلام آباد کے ساتھ روابط پر کوئی منفی اثر پڑا ہے۔ اس بارے میں امریکی سفارت خانے کی ایک خاتون ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا، ’ہم اس معاملے میں مسلسل پاکستانی حکام کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں، اور اس سطح کے دو طرفہ تعاون سے امریکی تفتیش کار بھی کافی مطمئن ہیں‘۔

ایک پاکستانی خفیہ ادارے کے اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ انہیں جو معلومات مہیا کی گئی ہیں، ان کے مطابق وارین وائن سٹائن دل کا مریض ہونے کے علاوہ دمے کا شکار بھی ہیں اور ان کا بلڈ پریشر بھی اکثر بہت زیادہ رہتا تھا۔ اس انٹیلی جنس اہلکار کے بقول، ’ایسے کسی بھی بزرگ انسان کے لیے ایک ماہ تک کسی کی قید میں رہنا ان کی صحت کے لیے بہت نقصان دہ ہو سکتا ہے، خاص طور پر اس لیے بھی کہ وارین وائن سٹائن کو باقاعدگی سے ادویات لینا پڑتی تھیں‘۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس