1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاہور، دہشت گردوں کے لئے آسان ہدف؟

پاکستانی صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جمعے کے روز ہونے والے سلسلہ وار دھماکوں کے بعد اب تک شہریوں میں خوف ہراس پایا جاتا ہے ۔

default

گزشتہ شب لاہور کے مصروف ترین بازار مون مارکیٹ کے قریب ہونے والےایک دھماکے میں چار افراد زخمی ہو گئے۔ اس کے فورا بعد اقبال ٹاؤن نامی علاقے ہی کے مختلف حصوں میں مزید چار دھماکے ہوئے۔حکام نے کہا ہے کہ یہ معمولی دھماکے ہیں اور ان کا مقصد شہریوں میں خوف ہراس پیدا کرنا ہے۔ اس سے قبل جمعے کی صبح لاہورکینٹ میں دو خود کش بم حملوں میں کم از کم 48 افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ اطلاعات کے مطابق خود کش حملہ آوروں نے لاہور کینٹ میں دو فوجی گاڑیوں کو صرف پندرہ سیکنڈ کے وقفے سے نشانہ بنایا۔ مرنے والوں میں پانچ فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔ پولیس حکام کے مطابق پہلے ایک خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو فوجی گاڑی کے پاس دھماکے سے اڑا دیا۔کچھ ہی دیر بعد دوسرے خودکش حملہ آور نے فوجی قافلے کے قریب دوسری گاڑی پر حملہ کر دیا۔

Pakistan Lahore Bombenanschlag Terror Flash-Galerie

عسکریت پسند اس سے قبل بھی لاہور کو کئی مرتبہ اپنی کارروائیوں کا نشانہ بنا چکے ہیں

ایک ہی ہفتے کے دوران لاہور میں دہشت گردی کا یہ دوسرا بڑا واقعہ ہے۔ چار روز پہلے بھی لاہور میں سپیشل انٹیلجنس ایجنسی کے ایک دفتر پر ایک خود کش حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم چودہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

کیا لاہور عسکریت پسندوں کے لئے کسی دہشت گردانہ کارروائی کے لحاظ سے ایک آسان ہدف ہے، اس حوالے سے ہمارے ساتھی عبدالستار سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب میں برسراقتدار جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما پرویز رشید نے ڈوئچے ویلے سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ ایسا کہنا بجا نہیں ہوگا۔

انٹرویو : عبدالستار

ادارت : مقبول ملک

DW.COM

Audios and videos on the topic