1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاہور دھماکہ ہم نے کیا، طالبان

طالبان نے لاہور دھماکے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے، جس میں ایک نوعمر خودکش بمبار نے شیعہ مسلمانوں کے ایک ماتمی جلوس کو نشانہ بنایا۔ منگل کو دراصل پاکستان کے دو بڑے شہروں میں دو گھنٹے کے دوران دو دھماکے ہوئے۔

default

پہلا دھماکہ لاہور میں شیعہ مسلمانوں کے ماتمی جلوس پر ہوا، جس میں کم از کم دس افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ لاہور پولیس کے سربراہ اسلم ترین کا کہنا ہے، ’ہم ان سپاہیوں کے شکر گزار ہیں، جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ اس کے نتیجے میں زیادہ بڑا حادثے کا رُخ موڑ دیا گیا ہے۔ اگر وہ جلوس میں داخل ہو جاتا، تو ہلاکتوں کی تعداد کہیں زیادہ ہو سکتی تھی۔‘

اس کے دو گھنٹے میں ہی دوسرا دھماکہ کراچی میں ہوا، جس میں موٹر سائیکل سوار خودکش بمبار نے ایک پولیس موبائل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو سپاہی ہلاک ہو گئے۔ دراصل اس حملے کا ہدف بھی ماتمی جلوس ہی تھا، اور اس کا نشانہ بننے والی پولیس وین جلوس کو سکیورٹی فراہم کر رہی تھی۔

جرمن خبررساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق طالبان نے لاہور دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کو ایسے مزید حملوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ تحریک طالبان میں دراصل پاکستان کی تقریباﹰ دو درجن شدت پسند تنظیمیں شامل ہیں۔ یہ گروپ 2007ء سے اب تک پاکستانی فوج اور شہریوں پر متعدد حملے کر چکا ہے۔

Pakistan Anschlag auf Schiiten in Quetta Flash-Galerie

طالبان پاکستانی شہروں میں متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں

کراچی حملے کی ذمہ داری فدائینِ اسلام نامی جہادی گروپ نے قبول کی ہے۔ اس گروپ کی قیادت قاری حسین احمد کے پاس ہے، جو طالبان کے خودکش بمباروں کو تربیت دینے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ قاری حسین نے پشاور میں ڈی پی اے کے نمائندے کو ٹیلی فون پر بتایا، ’ہم ایسے مزید حملے کریں گے، صرف پاکستان میں نہیں بلکہ امریکہ اور یورپ میں اپنے دشمن ملکوں میں بھی۔‘

قاری حسین احمد تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کا رشتہ دار ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: افسر اعوان

DW.COM

ویب لنکس