1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاہور دھماکہ دہشت گردی تھی یا حادثہ؟

پنجاب حکومت نے چوبیس گھنٹے گزرنے کے بعد باضابطہ طور پر یہ اعلان کر دیا ہے کہ جمعرات کو ڈیفنس کے کمرشل پلازے میں ہونے والا دھماکہ انسانی غفلت کے نتیجے میں ہونے والا ایک حادثہ تھا، جو گیس سلنڈر کے پھٹنے سے ہوا تھا۔

جمعے کے روز لاہور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ اس دھماکےکا دہشت گردی کے حوالے سے جاری لہر سےکوئی تعلق نہیں اور یہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ نہیں تھا۔

پاکستان میں بڑی تعداد میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس حکومتی دعوے پر یقین کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ قبل ازیں اس دھماکے کی ایک عینی شاہد خاتون نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ یہ حادثہ نہیں بلکہ دہشت گردی ہے۔

رانا ثناء اللہ نے یہ دعوی بھی کیا کہ ڈی ایچ اے میں ہونے والے بم دھماکے کی جگہ سے حاصل کیے جانے والے نمونوں کے فرانزک ٹیسٹ کی رپورٹ نے بھی اس دھماکے کے نتیجے میں کسی قسم کے بارودی مواد ملنے کی نفی کی ہے۔

دوسری طرف پنجاب میں انسداد دہشت گردی کے محکمے کے ایک ایس ایس پی ڈاکٹر اقبال نے جمعرات کو متاثرہ علاقے کے دورے کے بعد واضح طور پر کہا تھا کہ اس واردات میں بارودی مواد استعمال ہوا ہے، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ابھی (اس وقت تک) یہ واضح نہیں کہ یہ بارودی مواد وہاں نصب تھا یا یہ کسی اور مقام پر نصب کرنے کے کی تیاری کے دوران پھٹا ہے۔

اس دھماکے کے فورا بعد میڈیا کے ذریعے لوگوں کو جب یہ اطلاع پہنچائی گئی کہ یہ دھماکہ ایک جنریٹر کے پھٹنے سے ہوا ہےتو اس سے لوگوں کے شکوک و شبہات میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔

کسی ناگہانی صورتحال سے نمٹنے کی حکومتی 'تیاریوں' کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جمعرات کی شام تک مختلف حکومتی شخصیات اس واقعے میں ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے بارے میں بالکل مختلف اعداد و شمار پیش کرتے رہے۔

متضاد بیانات اور مختلف اعداد و شمار کی وجہ سے جہاں عوام کی پریشانی اور کنفیوژن میں اضافہ ہوا، وہاں لوگوں کے ذہنوں میں مختلف سوالات بھی اٹھنا شروع ہوئے۔

ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے ممتاز تجزیہ نگار ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے ان تمام عوامی خدشات کی تردید کی اور کہا کہ اصل صورتحال ابھی ہمارے سامنے نہیں ہے،’’اندازے اور الزامات لگانا بہت آسان ہے، تاہم اتنے بڑے جانی نقصان کی تحقیقات ضرور ہونی چاہیئں کیونکہ اس میں وجہ کوئی بھی ہو یہ نقصان حکومت کی غفلت کو بھی ظاہر کرتا ہے۔ اگر یہ دہشت گردی کا واقعہ بھی مان لیا جائے تو پھر بھی اس کی ذمہ داری ابھی تک کسی دہشت گرد گروہ نے قبول نہیں کی ہے۔‘‘

 ان کے مطابق یہ علاقہ کسی بھی لحاظ سے دہشت گردوں کا ٹارگٹ بننے کا جواز نہیں رکھتا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ دھماکے کے وقت اس ریسٹورنٹ کا مالک بھی جائے حادثہ پر موجود تھا۔

روزنامہ ایکسپریس کے کالم نگار خالد محمود رسول کا کہنا ہے کہ ڈیفنس دھماکے نے جہاں حکومتی کارکردگی کا پول کھول کر رکھ دیا ہے وہاں اس سے پاکستانی میڈیا بھی پوری طرح بے نقاب ہوا ہے۔ پاکستانی میڈیا کو بازی لے جانے کے چکر میں حقائق کی چھان بین سےگریز نہیں کرنا چاہیے۔