1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لاہور دھماکہ: دلخراش مناظر، شدید غم و غصہ

گزشتہ روز لاہور کے خود کش دھماکے میں اب تک 70 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس ہولناک سانحہ پر کئی افراد نے سوشل میڈیا پر اپنے جذبات کا اظہار کیا اور اس واقعہ کے دلخراش مناظر بھی شئیر کیے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عسکریت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے گروہ جماعت الاحرار نے لاہور حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔ اس خود کش حملے میں زیادہ تر بچے اور خواتین ظلم و بربریت کا نشانہ بنے۔ پاکستان میں شدت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن ’ضرب عضب‘ جاری ہے، لیکن سوشل میڈیا پر کئی افراد نے اس آپریشن کو حدف تنقید بنایا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کچھ لوگوں نے پنجاب حکومت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ اصل فوجی آپریشن تو پنجاب میں ہونا چاہیے جس کے قلب میں دہشت گردوں نے نہتے معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا ہے۔

صحافی اویس توحید نے لکھا کہ پنجاب لشکر طیبہ، سپاہ صحابہ، اور لشکر جھنگوی کا ہیڈکوارٹر ہے، یہاں جلد از جلد فوجی آپریشن ہونا چاہیے۔

پاکستان میں تعلیم کے شعبے میں سرگرم مشرف زیدی نے اس حملے میں زخمی ہونے والے ایک بچے کی تصویر شیئر کی۔

نیوز شو اینکر طلعت حسین نے مسلم لیگ نون کی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے لکھا،’’ آج دہشت اور تباہی نے مسلم لیگ نون کی حکومت سے طاقت چھین لی ہے، اس موقع پر موجود نہ ہو کر شریف برادارن نے ہنگامے اور افراتفری کے آگے اپنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔‘‘

.پاکستان میں روئٹرز کی نمائندہ مہرین زہرہ ملک نے لکھا کے طالبان نے وزیراعظم کو پیغام دے دیا ہے کہ وہ لاہور میں داخل ہوگئے ہیں اور وزیراعظم انہیں روک نہیں سکیں گے۔ لاہور میں ہی خود پر قاتلانہ حملے میں بچ جانے والے رضا رومی نے لکھا،’’ یہ مناظرانسانیت کی بے حرمتی ہیں۔‘‘

بھارت کے نامور ہدایت کار شیکھر کپور نے خود کش حملہ آوار کو مخاطب کرتے ہوئے ٹوئٹ کی،’’ جنت تمہارے لیے نہیں ہے، ان بچوں کی آہوں اور چیخوں میں تمہارا دم ہمیشہ گھٹتا رہے گا جنہیں تم نے قتل کر دیا۔ سماجی کارکن نادیہ جمیل نے اس حملے میں ہلاک ہونے والے اپنے ایک دوست نومی کی تصویر شیئر کی اور لکھا کہ یہ محض ہلاک ہونے والوں میں شامل ایک شخص نہیں بلکہ ایک اچھا دوست تھا۔

ٹوئٹر کی صارف شاہینہ سعید اورعالیہ نے امریکی شہر ڈالس کے ایک ہوٹل اور پیرس کے آئفل ٹاور کی تصاویر شیئر کیں جہاں لاہور حملے پر اظہار افسوس کے لیے ان عمارتوں پر روشنیوں سے پاکستان کے جھنڈے کے مناظر پیش کیے گئے۔

اس حملے کے بعد خوف و حراس کے بجائے انسانی ہمدردی اور اس کی عظمت کے بہترین مناظر بھی دیکھنے کو ملے۔ جہاں حکومت پنجاب سمیت کیمری نامی کمپنی نے زخمیوں کو خون عطیہ کرنے والے افراد کے لیے مفت گاڑی کی سہولت فراہم کی تو ہسپتال میں خون دینے والوں کی لمبی قطاریں نظر آئیں۔

فخر عالم نے لکھا، ’’ پہلے انہوں نے ہمارے بچوں کو اسکولوں میں آکر قتل کیا، اب وہ پارک آگئے ہیں کیا اب وہ گھروں میں بھی آکر ہمارے بچوں کو ماریں گے۔‘‘

DW.COM