1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاہور: دو مسلمانوں کو زندہ جلانے پر بیس مسیحیوں پر فرد جرم

پاکستان کی ایک عدالت نے دو مسلمانوں کو زندہ جلانےکے الزام میں بیس مسیحیوں پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔ رواں برس مارچ میں لاہور کے ایک چرچ پر ہوئے ایک خودکش حملے کے بعد مشتعل مسیحیوں نے دو مسلمانوں کو زندہ جلا دیا تھا۔

لاہور میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت کے جج محمد قاسم دو افراد کو زندہ جلانے کے جرم میں بیس ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی ہے جبکہ استغاثہ کو حکم دیا گیا ہے کہ پانچ نومبر کی آئندہ سماعت کے دوران گواہ پیش کیے جائیں۔ حکام کی جانب سے پیش کیے جانے والے حتمی چالان میں کہا گیا تھا کہ ان بیس ملزموں نے چرچ دھماکوں کے بعد دو معصوم شہریوں بابر نعمان اور محمد نعیم کو پہلے تشدد کا نشانہ بنایا اور بعدازاں انہیں زندہ جلا دیا۔

رواں برس پاکستانی صوبہ پنجاب کے مرکزی شہر لاہور کے علاقے یوحنا آباد میں واقع ایک چرچ پر خود کش حملے کیے گئے تھے، جن کے نتیجے میں ستّرہ افراد ہلاک جبکہ ستّر سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ ان حملوں کے فوراﹰ بعد وہاں موجود مشتعل مسیحیوں نے دو افراد کو پکڑ کر مارنا شروع کر دیا اور بعد ازاں ابھی یہ زندہ تھے کہ انہیں آگ لگا دی گئی۔ اس وقت مشتعل ہجوم نے ان دونوں افراد کو حملہ آوروں کا ساتھی سمجھا تھا۔ اب لاہور کی ایک عدالت نے ایسے بیس مسیحیوں پر فرد جرم عائد کر دی ہے، جو ان دو افراد کی ہلاکت میں مبینہ طور پر ملوث تھے۔

Pakistan Anschläge auf Kirchen in Lahore

یاد رہے کہ یوحنا آباد میں چرچ پر حملوں کے بعد پر تشدد احتجاج کا سلسلہ دو دن تک جاری رہا تھا

یاد رہے کہ یوحنا آباد میں چرچ پر حملوں کے بعد پر تشدد احتجاج کا سلسلہ دو دن تک جاری رہا تھا اور ہزاروں مسیحیوں کی پولیس کے ساتھ بھی جھڑپیں ہوئی تھیں۔ پبلک بس سروس دو روز تک معطل رہی تھی جبکہ شہر کے ایک حصے کی سڑکیں بلاک کر دی گئی تھیں۔

دو مسلمانوں کی ہلاکت کے بعد مسیحیوں کے خلاف بھی احتجاجی مظاہرے شروع ہو گئے تھے، جن کے بعد مقامی پولیس نے ویڈیو کلپس کی مدد سے بیس افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔

پراسیکیوٹر شیخ محمد سعید کا صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’انسداد دہشت گردی کی عدالت نے دو مردوں کو زندہ جلانے کے کیس میں بیس مسیحیوں پر فرد جرم عائد کر دی ہے۔‘‘ شیخ سعید کے مطابق سماعت کے دوران تمام ملزمان نے اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات سے انکار کیا ہے۔‘‘

لاہور کے علاقے یوحنا آباد اور اس کے مضافات میں تقریباﹰ ایک لاکھ مسیحی آباد ہیں جبکہ پاکستان کی بیس کروڑ کی آبادی میں اس اقلیت کا تناسب محض تقریباً دو فیصد ہے اور وہ بھی حالیہ برسوں کے دوران مشتعل افراد کے ساتھ ساتھ عسکریت پسندوں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

گزشتہ سال ایک بھٹے پر مزدوری کرنے والے شہزاد مسیح اور اُس کی حاملہ بیوی شمع بی بی کو پندرہ سو سے زائد افراد پر مشتمل ایک مشتعل ہجوم نے بری طرح سے مارنے پیٹنے کے بعد ایک جلتی ہوئی بھٹی میں پھینک دیا تھا۔ اس واقعے سے پہلے یہ افواہیں گردش کرنے لگی تھیں کہ اس مسیحی جوڑے نے قرآن کے صفحات کو کوڑے میں پھینک دیا تھا۔