1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاہور خود کش حملہ، حساس اداروں کی شہر سے باہر منتقلی پر غور

پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں بااثر ترین شہریوں کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں خود کش بم حملے کے بعد حساس اداروں کی شہری آبادیوں سے باہر منتقلی پر غور شروع کر دیا گیا ہے ۔

default

پیر کے روز ماڈل ٹاؤن میں کرائے کی ایک عمارت میں واقع اسپیشل انٹیلی جنس ایجنسی کے دفتر پر بارود سے بھری ایک گاڑی کے ٹکرا ئے جانے کے بعد ماڈل ٹاون میں بسنے والی ملک کی " ایلیٹ آبادی" شدید خوف و ہراس سے دو چار وہ گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس اسپیشل انٹیلی جنس ایجنسی کی عمارت میں مبینہ طور پر دہشت گردی کے واقعات میں ملوث گرفتار شدگان اہم ترین شخصیات ("ہائی ویلیو ٹارگٹس") سے تفیش کی جاتی تھی۔ ماڈل ٹاؤن میں مارچ 2008 ء میں بھی ایک ایسے ہی تفتیشی سیل پر حملہ ہوا تھا۔

سوسال پرانی ماڈل ٹاؤن سوسائٹی کا شمار ایشاکی سب سے پرانی کوآپریٹو سوسائٹیوں میں ہوتا ہے۔ ممتاز ہندو شخصیت سر گنگا رام بھی اس کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

اس سوسائٹی میں 250 سے زائد سابق و موجودہ ارکان پارلیمنٹ ۔ اعلیٰ عدالتوں کے جج، ملک کے ممتاز صنعتکار اور کئی فوجی جرنیل بھی رہائش پذیر ہیں۔ پیپلز پارٹی کا بلاول ہاؤس اور شریف برادارن کے آبائی گھر اور لاہور کے سابق مئیر میاں عامر اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ میاں منظور وٹو کا گھر بھی اسی علاقے میں ہے۔

پیر کی صبح جس عمارت کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا وہ ممتاز اسلامی دانشور جاوید احمد غامدی اور معروف عالم دین ڈاکٹر اسرار احمد کے تعلیمی اداروں سے چند قدم کے فاصلے پر واقع ہے۔

دہشت گردی کی اس واردات میں 200 گھر جزوی طور پر متاثر ہوئےہیں۔ جبکہ پندرہ سے بیس گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئےہیں۔

ایک لاکھ کی آبادی والے اس علاقے میں دہشت گردی کی حالیہ واردات نے شدید خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔ اس واقعے کے بعد شہریوں کی طرف سے حساس اداروں کے دفاتر شہر سے باہر منتقل کئے جانے کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

Pakistan Explosion einer Bombe in Lahore, Sara Batool, eine verletzte Schülerin

ماڈل ٹاؤن حملے کے زخمیوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں

پیر کے روز جائے واردات پر اکٹھے ہونے والے لوگوں نے اس حوالے سے احتجاج بھی کیا۔ ریڈیو ڈوئچے ویلے کو حاصل ہونے والی خصوصی معلومات کے مطابق ماڈل ٹاؤن میں اب بھی ایک درجن سے زائد ایسے سرکاری اور بین الاقوامی اہم ادارے موجود ہیں جو دہشت گردوں کا ممکنہ ٹارگٹ ہو سکتے ہیں۔ ان اداروں میں تین ادارے ایسے ہیں جن کا تعلق تحقیقاتی ایجنسیوں سے بتایا جا رہا ہے۔

ماڈل ٹاون ایک ایسا علاقہ ہے جس کا اپنا سیکورٹی سسٹم بہت مئوثر ہے۔ یہاں سیکیورٹی اہلکاروں کا مسلسل گشت رہتا ہے اور رات کو تو اس علاقے میں آنے والے بیشتر راستے بند کر دئے جاتے ہیں اس کے باجود دہشت گردی کی حالیہ واردات نے ماڈل ٹاؤن کے باسیوں کو سکون کی نیند سے محروم کر دیا ہے۔

ایک سماجی رہنما نائلہ نجم نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ انٹیلی جنس ایجنسی کے تحقیقی سیل کو ماڈل ٹاؤن سے باہر منتقل کرانے کیلئے پچھلے کئی برسوں سے کوششیں کی جا رہی تھیں ،اس ادارے کی بجلی بھی بند کی گئی۔ اس عمارت کے مالک کو بھی درخواست کی گئی ۔ احتجاجی ریلیاں بھی نکالی گئیں لیکن اس سب کے باوجود متعلقہ اداروں نے ان کے اس مطالبے پر توجہ نہیں دی کہ حساس اداروں کو شہر ی آبادیوں سے باہر نکالا جائے۔ کچھ ایسے ہی جذبات لاہور کے ان دیگر ترقی یافتہ علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے بھی ہیں جہاں حساس اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔

پیر کی شام لاہور میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں متعلقہ حکام نے پہلی مرتبہ اس مسئلے پر سنجیدگی سے غور کیا اور لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے حساس اداروں کو محفوظ اور متبادل جگہوں پر منتقل کرنے کیلئے کئی تجاویز کا جائزہ لیا۔ ماڈل ٹاون کو آپریٹو سوسائٹی کے نائب صدر تنویرزبیری نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ماڈل ٹاؤن کے شہری اس واقعے کے بعد شدید خوف و ہراس میں ہیں اور انہوں نے متعلقہ حکام کو ماڈل ٹاؤن کے شہریوں کے جذبات سے آگاہ کر دیا ہے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ متعلقہ ادارے اس بارے میں مثبت طرز عمل اختیار کرتے ہوئے جلد ہی واضح پیش رفت کریں گے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس سے پہلے لاہور میں نیول ہیڈ کوارٹر، ایف آئی اے بلڈنگ ، مناواں پولیس اسٹیشن ، آئی ایس آئی کے دفتر، سری لنکن ٹیم، مون مارکیٹ، ایلیٹ ٹریننگ سکول اور جامع نعیمہ کو بھی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

Pakistan Polizei in Lahore

ماڈل ٹاؤن میں سیکیورٹی کا انتظام کافی بہتر سمجھا جاتا ہے

بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ آج کل پاکستان میں امریکی ڈرون حملے بڑی حد تک کم ہو چکے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف سر گرم پاک فوج کو مطلوبہ دہشت گردوں کے خلاف نمایاں کامیابیاں مل رہی ہیں۔ ان کامیابیوں کا اعتراف امریکی اہلکاروں کی طرف سے بھی کیا جا رہا ہے۔

ممتاز عسکری تجزیہ نگار ، برگیڈئیر ریٹائرڈ فاروق حمید خان کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاک فوج کو قبائلی علاقوں میں حال ہی میں نمایاں کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں اور پچھلے کچھ عرصے میں القاعدہ اور طالبان کے بعض اہم لیڈروں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق ماڈل ٹاؤن میں ہونے والا دہشت گردی کا تازہ واقعہ ان سب کامیابیوں کا ردِ عمل ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایسے واقعات مستقبل میں بھی رونما ہو سکتے ہیں۔ اس لئے خفیہ اداروں کی کارکردگی کو مزید موثر بنانے کی شدید ضرورت ہے۔

ماڈل ٹاون خود کش حملوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 13 ہو گئی ہےجبکہ زخمیوں کی تعداد 65 بیان کی جا رہی ہے۔ اسپیشل انٹیلی جنس کے دفتر پر ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری تحریک پاکستان نامی ایک تنظیم نے قبول کی ہے ۔ دہشت گردی کی اس واردات کا مقدمہ ماڈل ٹاؤن تھانے میں درج کر لیا گیا ہے اور نا معلوم ملزموں کے خلاف کارروائی کیلئے روایتی تحقیقاتی ٹیمیں بھی بنا دی گئی ہیں۔

ملک کے دوسرے بڑے شہر کو لرزا دینے والے دہشت گردی کے واقعے کے بعد پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر نے کہا ہے کہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا چند ہزار ووٹوں کیلئے ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم کے رابطے میں ہیں۔ ان کے مطابق اب وزیر اعلیٰ پنجاب کو بتانا ہو گا کہ دہشت گردوں کے ساتھ ہیں یا ان کے خلاف ہیں ۔ پنجاب کے گورنر کا یہ بیان پنجاب حکومت کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف کئے جانے والے اقدامات پر کھلا تبصرہ ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM