1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاہور بم دھماکے کے بعد

لاہور بم دھماکے کے بعد تفتیش ٹیموں نے اپنی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس طارق سلیم ڈوگر نے لاہور بم دھماکوں کے حوالے سے دو اہم مشتبہ افراد کی گرفتاری کی تصدیق کر دی ہے ۔

default

دھماکے سے ریسکیو 15 کی عمارت تباہ ہوگئی

ان مشتبہ افراد سے ملنے والی روشنی میں تحقیقات کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے ۔ پولیس ذرائع کے مطابق بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات پولیس نے مختلف شہروں میں چھاپے مار کر درجن بھر افراد کو حراست میں لے لیا ہے ۔ جائے واردات سے ملنے والے میٹریل کا تجزیہ بھی کیا جا رہا ہے۔ جائے واردات کے قریبی علاقوں میں عمارتوں پر لگے ہوئے خفیہ کیمروں کی ریکارڈنگ بھی تفتیشی حکام نے حاصل کر لی ہے۔

ادھر ہسپتال سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایک درجن سے زائد مریضوں کی حالت خاصی تشویش ناک بیان کی جا رہی ہے جس سے اس سانحے میں ہلاک ہونے والے کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ لاہور کے مردہ خانے میں سانحہ لاہور میں جان بحق ہونے والے لوگوں کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔ لواحقین اپنے عزیزوں کی لاشیں لے کر جا رہے ہیں اور بدھ کی صبح مرنے والوں کی آخری رسومات کی ادائیگی کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔

ادھر جائے حادثہ سے ملبہ ہٹانے کا کام اب بھی جاری ہے ۔ گنگا رام چوک اور اس کے ملحقہ علاقوں میں خوف وہراس کی کیفیت بدستور موجود ہے۔ اگرچہ پولیس کی ایمرجنسی ریسکیو سروس 15 کو قربان لائن شفٹ کیا جا رہا ہے لیکن پولیس اہلکار اس سانحے کے بعد کافی رنجیدہ نظر آ رہے ہیں۔ خاص طور پر پولیس افسران متاثرہ عمارت میں بیٹھنے سے فی الحال گریز کر رہے ہیں۔ اہم اداروں اور عمارتوں کی حفاظت کےلئے نیا سیکورٹی پلان ترتیب دیا جا رہا ہے۔

لاہور بم دھماکوں سے پیدا ہونے والی صورتحال نے وزیرداخلہ رحمان ملک کے اس انکشاف کے بعد ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت کو دہشت گردی کی اس واردات کے بارے میں پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی جب کہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنا ءاﷲ خان کسی ایسی اطلاع کی موجودگی سے انکار کر رہے ہیں۔

یاد رہے لبرٹی بم دھماکوں کے بعد شریف برادران نے پیپلز پارٹی کے گورنر سلمان تاثیر پر یہ الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے دیانتدار پولیس افسروں کے تبادلے کر دیئے اور پولیس فورس کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا اس لئے صوبے میں دہشت گردی کی وارداتیں ہو رہی ہیں۔ مناواں پولیس ٹریننگ سنٹر پر حملے کے وقت بھی شریف برادران نے دہشت گردی کی پیشگی اطلاع کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے گورنر پنجاب کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا ۔ اب جبکہ پنجاب کی حکومت مسلم لیگ (ن)کے پاس ہے اور سارے اختیارات صوبے کے چیف ایگزیکٹو میاں شہباز شریف کے پاس ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف دہشت گردی کی اس واردات کی ذمہ داری اب کس پر ڈالتے ہیں۔

ادھر مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الہیٰ نے کہا ہے کہ لاہور بم دھماکہ پنجاب حکومت کی نااہلی کی وجہ سے ہوا ہے ۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت کو اس واقعہ کے بارے میں پہلے سے اطلاع کر دی گئی تھی اس لئے عوام پنجاب حکومت سے اس سوال کا جواب طلب کرنے میں حق بجانب ہیں کہ قیمتی جانوں کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہے۔

سانحہ مناواں اور سانحہ لبرٹی کے حوالے سے سرکاری شخصیات اہم گرفتاریوں کے بلند بانگ دعوے تو کرتی رہی ہیں لیکن ان وارداتوں میں ملوث مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں ابھی تک نہیں لایا جا سکا۔

کیا سانحہ لاہور کے مجرموں کو سزا مل سکے گی ؟ یہ بات ابھی واضح نہیں ہے لیکن یہ بات ضرور واضح ہے کہ بدھ کے روز 28 مئی کو جب پاکستانی قوم سانحہ لاہور میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے معصوم پاکستانیوں کی بے بسی کے ساتھ نماز جنازہ ادا کر رہی ہو گی یہی وہ دن ہو گا جب دنیا کی ایٹمی طاقت رکھنے والے ملک پاکستان کے بعض شہری ایٹمی دھماکوں کی سالگرہ منا رہے ہوں گے۔