1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

لاکھوں مہاجرین کے سروں سے چھت چھن جانے کا خطرہ

اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مہاجرین کو پناہ گاہیں فراہم کرنے کے لیے مالی وسائل کی کمی کے باعث دنیا بھر میں موجود لاکھوں مہاجرین کھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔

اے ایف پی کی جنیوا سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسے مہاجرین کی آباد کاری کے لیے وسائل کی کمی کا سامنا ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاکھوں مہاجرین کے سروں سے چھت چھن جانے کا خطرہ ہے۔ اس عالمی ادارے نے نجی کمپنیوں اور تنظیموں سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ بھی بے گھر مہاجرین کی آباد کاری کے لیے مالی مدد فراہم کریں۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی آنا غلطی تھی، واپس کیسے جائیں؟ دو پاکستانیوں کی کہانی

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے Nobody Left Outside یا ’کوئی باہر نہ رہے‘ نامی اپنی عالمی مہم شروع کرتے ہوئے بتایا کہ اسے اب بھی دنیا بھر میں مہاجرین کو رہائش کی مناسب سہولیات کی فراہمی کے لیے کم از کم 500 ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔

یو این ایچ سی آر کے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق، ’’عالمی سطح پر تعاون اور مالی امداد میں اضافہ نہ کیا گیا تو جنگوں اور مسلح تنازعات کے باعث اپنے گھر بار چھوڑ کر لبنان، میکسیکو اور تنزانیہ جیسے ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہونے والے لاکھوں تارکین وطن کو مناسب رہائش گاہیں فراہم نہیں کی جا سکیں گی، جس کی وجہ سے وہ سڑکوں تک پر سونے پر مجبور ہو سکتے ہیں۔‘‘

شام میں گزشتہ پانچ برس سے جاری خانہ جنگی اور دنیا کے کئی دیگر ممالک میں پائے جانے والے بحرانوں کے باعث عالمی سطح پر چھ کروڑ سے زائد انسان اپنے گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے پرمجبور ہو چکے ہیں۔

موجودہ صورت حال کے خلاف تنبیہ کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ ’رہنے، کھانے پینے اور تعلیم حاصل کرنے کے لیے محفوظ جگہوں کی عدم دستیابی کے باعث ان کئی ملین مہاجرین کو صحت اور سلامتی کے شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں‘۔

ویڈیو دیکھیے 02:10

اڈومینی کے ابتر حالات میں مہاجرین کی تشویش

یو این ایچ سی آر کی موجودہ مہم کا مقصد نجی اداروں کو مہاجرین کو رہائش گاہیں فراہم کرنے کے عمل میں مالی معاونت کی ترغیب دینا ہے۔

عالمی ادارہ ہر سال 70 ہزار بڑے خیمے اور 20 لاکھ چھوٹے خیمے خرید کر مہاجرین کی آباد کاری کے لیے فراہم کرنے کے علاوہ کرائے پر مکان حاصل کر کے بھی ایسے بے گھر انسانوں کو رہائش گاہیں فراہم کرتا ہے۔

اس ادارے کے مطابق صرف اس برس کے دوران مہاجرین کو رہائش کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے 728 ملین ڈالر درکار ہیں لیکن فی الوقت اس ادارے کے پاس صرف 158 ملین ڈالر کی فنڈنگ موجود ہے۔

اقوام متحدہ کے کمشنر برائے مہاجرین فیلیپو گرانڈی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے، ’’دوسری عالمی جنگ کے بعد دنیا کو مہاجرین کے سب سے بڑے بحران کا سامنا ہے۔ ہمیں ہر مہاجر کو چھت فراہم کرنا ہے۔کسی کو بھی اس سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔‘‘

جرمنی اور اٹلی نئی امیگریشن پالیسی پر متفق

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

DW.COM

Audios and videos on the topic