1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

لاکھوں مہاجرین کی ’ڈیبٹ کارڈ‘ کے ذریعے مدد

بظاہر تو یہ پلاسٹک کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا ہے لیکن شامی مہاجر ہدیٰ العلی کے لیے یہ اس کے بچوں کو بھوک سے بچانے کا ایک ذریعہ ہے۔ پلاسٹک کا یہ ٹکڑا یہ دراصل عالمی ادارہ خوراک کی جانب سے جاری کردہ ’ڈیبٹ کارڈ‘ ہے۔

صرف ہدیٰ ہی نہیں بلکہ ترکی میں موجود ہزاروں شامی مہاجرین کو ورلڈ فوڈ پروگرام نے ایسے ڈیبٹ کارڈ دے رکھے ہیں جن کی مدد سے وہ اپنی روز مرہ کی ضروریات پورا کرتے ہیں۔ اپنی سب سے چھوٹی بیٹی کو پہلو میں اٹھائے ہوئے ہدیٰ العلی کا کہنا تھا، ’’اس کارڈ نے ہمیں اتنا کچھ دیا ہے کہ آپ سوچ بھی نہیں سکتے، ہم نے اس سے سو فیصد استفادہ کیا۔‘‘

جرمنی اور اٹلی نئی امیگریشن پالیسی پر متفق

یورپی کمیشن نے سیاسی پناہ کے نئے قوانین تجویز کر دیے

اس کارڈ کے ذریعے دی جانے والی رقم بہت زیادہ بھی نہیں ہے۔ پانچ افراد کے خاندان کے لیے صرف ایک سو ڈالر ماہانہ فراہم کیے جاتے ہیں۔ لیکن مہاجرین کو سہولت یہ ہے کہ وہ اپنی مرضی اور پسند کے مطابق یہ رقم خرچ کر سکتے ہیں۔ ہدیٰ اور اس کا خاوند اپنے تین بچوں کے ساتھ شامی سرحد کے قریب واقع ترک شہر غازی انتیپ میں ایک چھوٹے سے اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر ہیں۔ خوراک کے لیے تو انہیں مدد مل جاتی ہے لیکن گھر کا کرایہ ادا کرنے میں انہیں کافی دشواری پیش آتی ہے۔

عالمی برادری کو انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی میں کافی مشکلات پیش آتی ہیں لیکن ورلڈ فوڈ پروگرام کی جانب سے شروع کیا گیا یہ جدید منصوبہ، جسے ’ای واؤچر‘ کا نام دیا گیا ہے، اب تک کافی موثر ثابت ہوا ہے۔ ترک دارالحکومت استنبول میں پیر کے روز سے اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ’ورلڈ ہیومنیٹیریئن سمٹ‘ کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں جرمن چانسلر انگیلا میرکل سمیت دنیا بھر پچاس سے زائد سربراہان مملکت کی شرکت متوقع ہے۔

سمٹ کے دوران انسانی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے لیے رقم جمع کرنے کی کوشش کی جائے گی لیکن اس ساتھ اِس بات پر بھی غور کیا جائے گا کہ موجودہ وقت میں جیسے تنازعات کی نوعیت بدلی ہے اور جس طرح انسانی بحرانوں میں شدت آئی ہے، اس دوران انسانی بنیادوں پر مدد کی فراہمی کے طریقے بھی کس طرح تبدیل کیے جا سکتے ہیں۔

اس وقت دنیا بھر میں 60 ملین سے زائد لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور انہیں مدد فراہم کرنے کے لیے فنڈنگ بھی ناکافی ہے۔ ماہرین کی رائے میں ایسی صورت حال کے دوران انسانی بنیادوں پر فراہم کی جانے والی امداد کو ضرورت مندوں تک سستے اور بہتر طریقے سے پہنچانے میں جدید ٹیکنالوجی اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

Türkei Flüchtlingslager in Kilis

ترکی میں قائم کیمپوں میں لاکھوں شامی مہاجرین مقیم ہیں، تاہم زیادہ تر شامی کیمپوں میں رہنے کی بجائے کرائے پر گھر لے کر رہنے کو ترجیح دیتے ہیں

انسانی بنیادوں پر مدد کے یورپی ادارے ’ای سی ایچ او‘ سے تعلق رکھنے والے ماتھیاس آئک کا کہنا ہے کہ موجودہ وقت میں ضرورت مند افراد ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں جہاں انفراسٹرکچر کی صورت حال کافی بہتر ہے اس لیے اب انہیں خوراک اور ضرورت کی دیگر اشیاء فراہم کرنے کے لیے ٹرکوں کے کاروان بھیجنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی لیے ’ای واؤچر‘ جیسے پروگرام کافی کارآمد ثابت ہو رہے ہیں۔

ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے رقم فراہم کرنے سے نہ صرف اخراجات میں کمی آتی ہے بلکہ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مہاجرین کسی اور پر انحصار کرنے کی بجائے اپنی خوراک خود خریدنے کے اہل ہو جاتے ہیں۔

فی الوقت اس اسکیم سے ترکی میں مقیم ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد مہاجرین مستفید ہو رہے ہیں۔ لیکن اس منصوبے کو توسیع دی جا رہی ہے اور اس میں خوراک کے علاوہ دیگر اشیاءِ ضرورت کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ ترکی اور یورپی یونین کے مابین طے پانے والے منصوبے کے مطابق ترکی میں مقیم شامی مہاجرین کی مدد کے لیے یورپی یونین ترکی کو تین بلین یورو بھی فراہم کرے گی۔ امدادی اداروں کو امید ہے کہ اس رقم کی فراہمی کے بعد 2016ء کے آخر تک ’ای واؤچر‘ منصوبے سے سات لاکھ 30 ہزار مہاجرین مستفید ہو پائیں گے۔

’تارکین وطن کو اٹلی سے بھی ملک بدر کر دیا جائے‘

جرمنی آنا غلطی تھی، واپس کیسے جائیں؟ دو پاکستانیوں کی کہانی

DW.COM