1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

لاکھوں تارکین وطن کن کن راستوں سے کیسے یورپ پہنچے

گزشتہ دو برسوں کے دوران لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن غیر قانونی راستے اختیار کرتے ہوئے یورپ پہنچے۔ اس دوران ہزاروں انہی پر خطر راستوں میں مارے بھی گئے۔ یورپ کی طرف غیر قانونی سفر کے ان راستوں کی مکمل تفصیلات:

غیر قانونی طریقوں سے یورپ آنے والے کن راستوں کا انتخاب کرتے ہیں، کس راستے سے کتنے مہاجرین آئے اور کتنے ہلاک ہوئے۔ یورپی یونین کی بیرونی سرحدوں کی نگران ایجنسی (فرنٹیکس)، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) اور بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کی روشنی میں یہ جملہ راستے مندرجہ ذیل ہیں۔

مشرقی بحیرہ روم کا راستہ

2015ء میں یورپ کا رخ کرنے والے تارکین وطن کی اکثریت نے یہی سمندری راستہ اختیار کیا تھا۔ پناہ کے متلاشی افراد خستہ حال کشتیوں کی مدد سے ترکی کے ساحلوں سے بحیرہ ایجیئن عبور کر کے لیسبوس، کوس اور دیگر یونانی جزائر تک پہنچے تھے۔ اُس برس مجموعی طور پر آٹھ لاکھ 85 ہزار مہاجرین اور تارکین وطن اس طرح یونان پہنچے۔ اس کے برعکس 2014ء میں پچاس ہزار جب کہ 2013ء میں پچیس ہزار مہاجرین نے اس راستے کا انتخاب کیا تھا۔ یونان پہنچنے کے بعد تارکین وطن بلقان کی ریاستوں سے گزرتے ہوئے جرمنی اور دیگر مغربی یورپی ممالک کا رخ کرتے تھے۔

تاہم گزشتہ برس یورپی یونین اور ترکی کے مابین ایک معاہدہ طے پا جانے اور بلقان کی ریاستوں کی جانب سے اپنی قومی سرحدیں بند کیے جانے کے بعد سے اس راستے سے مغربی یورپ پہنچنے کے امکانات بہت کم رہ گئے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر 2016ء میں ایک لاکھ 80 مہاجرین نے مشرقی بحیرہ روم کا راستہ اختیار کیا۔ جن ممالک کے شہریوں نے اس نئے راستے کا انتخاب کیا، ان میں شام، افغانستان، عراق اور پاکستان سر فہرست ہیں۔

وسطی بحیرہ روم کا راستہ

بحیرہ روم کے ذریعے لیبیا اور دیگر شمالی افریقی ممالک سے اٹلی تک کے راستے کو وسطی بحیرہ روم کا راستہ کہا جاتا ہے۔ مشرقی بحیرہ روم کے راستے کی نسبت یہ سمندری سفر زیادہ طویل اور خطرناک ہے۔ 2010ء میں اس راستے کا انتخاب کرنے والے مہاجرین کی تعداد ساڑھے چار ہزار تھی لیکن 2015ء میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد تارکین وطن نے یہ روٹ اختیار کیا۔

گزشتہ برس مشرقی بحیرہ روم کے ذریعے مغربی یورپ تک رسائی مشکل ہو جانے کے بعد بحیرہ روم کے وسطی راستوں سے اٹلی کا رخ کرنے والوں کی تعداد میں کچھ اضافہ دیکھا گیا۔ قریب پونے دو لاکھ تارکین وطن نے یہ راستہ اختیار کیا جن میں سے زیادہ تر کا تعلق نائجیریا، اریٹریا اور دیگر افریقی ممالک سے تھا۔

مغربی بحیرہ روم کا راستہ

یہ راستہ مغربی بحیرہ روم عبور کر کے مراکش سے سپین تک جاتا ہے۔ یہ راستہ تارکین وطن میں بہت مقبول نہیں ہے جس کی ایک بڑی وجہ ہسپانوی حکومت کی جانب سے ملکی سمندری حدود کی مسلسل نگرانی ہے۔ سمندری راستے کے علاوہ دو سمندر پار ہسپانوی علاقوں سییُوٹا اور میلِیّا کی سرحدیں بھی مراکش سے ملتی ہیں، جنہیں بلند و بالا سرحدی باڑ نصب کر کے محفوظ بنایا گیا ہے۔

زیادہ تر مغربی افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن ان باڑوں کو عبور کر کے ہسپانوی علاقوں میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 2015ء میں سات ہزار سے زائد تارکین وطن نے یورپ پہنچنے کے لیے یہ راستہ اختیار کیا جب کہ 2016ء میں یہ تعداد آٹھ ہزار کے قریب رہی جس دوران ایسی کوششوں میں 70 مہاجرین ہلاک بھی ہو گئے۔

مشرقی سرحدی راستہ

یورپی یونین کی مجموعی طور پر چھ ہزار کلو میٹر سے بھی زیادہ طویل مشرق کی طرف بیرونی سرحدیں روس، بیلاروس اور یوکرائن سے بھی ملتی ہیں۔ اس راستے کو آرکٹک یا قطب شمالی کا راستہ بھی کہا جاتا ہے۔ زمینی روٹ ہونے کے باوجود اس انتہائی سرد قطبی راستے کو عبور کرنا بہت ہی دشوار ہے جس کی وجہ سے تارکین وطن زیادہ تر یہ راستہ اختیار کرنے کا خطرہ مول نہیں لیتے۔ 2015ء سے قبل سالانہ اوسطاﹰ ایک ہزار تارکین وطن ان راستوں کے ذریعے یورپی یونین کی حدود میں داخل ہو رہے تھے تاہم 2015ء میں یہ تعداد دگنی ہو کر دو ہزار تک پہنچ گئی تھی۔

2015ء میں یورپ میں مہاجرین کا بحران عروج پر تھا۔ اس سال زیادہ تر مشرق وسطیٰ، ایشیا اور افریقی ممالک سے تعلق رکھنے والے دس لاکھ سے زائد تارکین وطن یورپ پہنچے۔ 2016ء میں غیر قانونی راستوں سے یورپ آنے والوں کی تعداد اس سے ایک سال پہلے کی نسبت نصف سے بھی کم رہی۔

بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت (آئی او ایم) کے مطابق گزشتہ برس مہاجرین کے لیے اور بھی جان لیوا ثابت ہوا، جس دوران 7250 سے بھی زائد تارکین وطن یورپ کی طرف سفر کے دوران خطرناک سمندری اور زمینی راستوں ہی میں مارے گئے۔ 2015ء میں ایسی ہلاکتوں کی تعداد قریب 5700رہی تھی۔

ویڈیو دیکھیے 03:00

امیدوں کے سفر کی منزل، عمر بھر کے پچھتاوے

DW.COM

Audios and videos on the topic