1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاکهوں افغان مہاجرین کٹهن حالات میں نئی زندگی کی تلاش میں

تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک قریب ڈهائی لاکه افغان مہاجرین واپس اپنے وطن لوٹ چکے ہیں، جہاں وہ کٹهن حالات میں نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔

اتنی بڑی تعداد میں افراد کی جنگ زدہ افغانستان آمد نہ صرف کابل حکومت کے لیے ایک امتحان ثابت ہورہی ہے بلکہ برسوں سے یہاں فلاحی کاموں میں مصروف عالمی اداروں نے بهی مدد کے لیے صدا بلند کر دی ہے۔ اقوام متحدہ نے رواں ہفتے اس ضمن میں ایک فوری اپیل Flash Appeal جاری کی، جس میں رواں ماہ سے اختتام سال تک ہنگامی بنیادوں پر کم از کم 152 ملین امریکی ڈالرز کا تقاضا کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے رابطہ دفتر برائے انسانی امور نے پیر 19 ستمبر کو ایک اعلامیہ میں زور دے کر کہا ہے کہ قریب ایک ملین افراد (بشمول مہاجرین اور اندرون ملک بے گہر افراد) افغانستان میں بے سر و سامانی کے عالم میں فوری امداد کے منتظر ہیں۔ اس عالمی ادارے کے مطابق سال رواں کے آغاز سے اب تک 143,400 غیر رجسٹرڈ اور 114,420 رجسٹرڈ افغان مہاجرین واپس وطن لوٹے ہیں۔ اعلامیے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ فوری طور پر بیلجیم، جرمنی، جاپان، ناروے، سویڈن، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ نے امداد کی یقین دہانی کروائی ہے۔

اقوام متحدہ نے ہنگامی بنیادوں پر کم از کم 152 ملین امریکی ڈالرز کا تقاضا کیا ہے

اقوام متحدہ نے ہنگامی بنیادوں پر کم از کم 152 ملین امریکی ڈالرز کا تقاضا کیا ہے

قریب چار دہائیاں پاکستان میں مہاجرت کی زندگی بسر کر کے واپس افغانستان لوٹنے والوں میں سے ایک خیر اللہ بھی ہیں، جو ان دنوں دارالحکومت کابل کے نواحی علاقے پل چرخی کے پاس ایک کهلے میدان میں اپنے اہل و عیال کے ساتھ خیمہ زن ہیں۔ سابقہ سوویت یونین کے افغانستان پر حملے کے وقت پشاور کا رخ کرنے والے خیر اللہ کی عمر اس وقت لگ بھگ چار یا پانچ برس تھی۔ ڈی ڈبلیو سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ ساری زندگی پشاور میں گزری مگر حالیہ کچھ برسوں سے وہ خود کو وہاں اجنبی محسوس کرنے لگے تھے۔ ’’خدا کرے یہاں کے حالات بہتر ہوجائیں، کچہ بھی ہو یہ (افغانستان) اپنا وطن ہے، محنت مزدوری کر کے گزر بسر ہو ہی جائے گی۔‘‘

یاد رہے کہ پشاور میں آرمی پبلک اسکول پر دسمبر 2014ء میں ہوئے خونریز حملے کے بعد پاکستان میں حکومتی اور عوامی سطح پر مہاجرین مخالف جذبات میں اضافہ دیکھا گیا۔

افغانستان کی وزارت مہاجرین و عودت کنندگان کے اعداد و شمار کے مطابق ان دنوں ہر روز قریب چار ہزار افراد واپس افغانستان لوٹ رہے ہیں اور موسم سرما کے آغاز سے قبل اس تعداد میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ واضح رہے کہ اتنی بڑی تعداد میں افغان مہاجرین کی وطن واپسی کے تین عمدہ عوامل ہیں۔ اول تو پاکستانی حکومت نے مہاجرین کی اپنے ہاں قیام کی مدت میں توسیع نہ کرنے کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد بہت بڑی تعداد میں مہاجرین نے قانون نافذ کرنے والوں اداروں کی جانب سے استحصال کی شکایات کی ہیں۔ دوئم، افغان حکومت ’’خپل وطن - گل وطن‘‘ (اپنا دیس - پیارا دیس) کے نام سے ایک پروگرام کے تحت افغان مہاجرین کو واپسی کی ترغیب دے رہی ہے اور سوئم اقوام متحدہ کی جانب سے واپس اپنے ملک جانے والے مہاجرین کو ملنے والے وظیفے کا چار سو ڈالر فی فرد تک بلند ہونا ہے۔

ان دنوں ہر روز قریب چار ہزار افراد واپس افغانستان لوٹ رہے ہیں

ان دنوں ہر روز قریب چار ہزار افراد واپس افغانستان لوٹ رہے ہیں

اسلام آباد حکومت نے حال ہی میں مہاجرین کے قانونی قیام میں مارچ 2017ء تک توسیع کا اعلان کیا ہے تاہم بیشتر مہاجرین موسم سرما کے آغاز سے قبل ہی افغانستان میں پناہ کا بندوبست کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔

وزارت مہاجرین و عودت کنندگان کے ترجمان اسلام الدین جرآت نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ متعلقہ وزارتوں اور بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر ایک جامع پالیسی تیار کی گئی ہے، جس کی مدد سے مہاجرین کو اپنے ملک میں نئی زندگی شروع کرنے میں مدد فراہم کی جاسکے گی۔ ان کے مطابق 27 صوبوں میں مہاجرین کے لیے رہائشی پلاٹوں کی مفت تقسیم سمیت دیگر سہولیات کا بهی بندوبست کیا گیا ہے۔