1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاکربی بمبار لیبیا میں ہی رہے گا، قومی عبوری کونسل

لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے اعلان کیا ہے کہ لاکربی بمبار عبد الباسط مغراہی کو کسی دوسرے ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

default

عبدالباسط مغراہی

کونسل کے وزیر انصاف محمد الاگی نے طرابلس میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو میں کہا کہ باغیوں کی غیر رسمی حکومت لیبیا کے کسی شہری کو مغرب کے حوالے نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا، ’’ال مغراہی پہلے ہی مقدمے کا سامنا کر چکا ہے اور اسے مزید مقدموں کا سامنا نہیں کرنے دیا جائے گا۔‘‘

کینسر کے مرض میں مبتلا عبدالباسط مغراہی طرابلس کے ایک مکان میں بے ہوشی کی حالت میں ہے۔ اسے 1988ء میں لندن سے نیویارک جانے والی امریکی فضائی کمپنی پین ایم کی پرواز 103 کو  بم دھماکے سے تباہ کرنے کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ اِس دھماکے میں ہوائی جہاز کے مسافروں اور عملے کے علاوہ اسکاٹ لینڈ کے شہر لاکربی کے رہائشی 11 افراد سمیت کل 270 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس ہوائی جہاز میں 187 امریکی شہری بھی سوار تھے۔

Mustafa Abdul Jalil Übergangsregierung Libyen

مصطفٰی عبدالجلیل کی زیر قیادت قومی عبوری کونسل نے کہا ہے کہ مغراہی کو کسی ملک کے حوالے نہیں کیا جائے گا

مغراہی کو 27 برس قید کی سزا سنائی گئی تھی، تاہم اسکاٹ لینڈ کی حکومت نے کینسر میں مبتلا ہونے کے باعث اسے آٹھ برس بعد یعنی  2009 ء میں انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر رہا کر دیا تھا۔ تاہم انہوں نے شرط یہ رکھی تھی کہ وہ حفاظتی تحویل میں ہی رہے گا۔

امریکہ میں ال مغراہی کی رہائی پر سخت برہمی کا اظہار کیا گیا تھا۔ برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو بعد میں یہاں تک کہنا پڑا کہ اسکاٹ لینڈ کے وزیر انصاف کا فیصلہ ایک غلطی تھا۔

اتوار کو عبور ی کونسل کی جانب سے مغراہی کو کسی کے حوالے نہ کرنے کے اعلان پر برطانیہ نے براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ دفتر خارجہ کی ایک خاتون ترجمان نے کہا، ’’وزیر اعظم نے یہ بات واضح کر دی ہے کہ اسکاٹ لینڈ کی حکومت کا ال مغراہی کو رہا کرنے کا فیصلہ غلط اور گمراہ کن تھا۔‘‘

Flash-Galerie Libyen Muammar al Gaddafi hat Lockerbie befohlen

امریکی طیارے کا ملبہ اسکاٹ لینڈ کے شہر لاکربی میں گرا تھا

عالمی نشریاتی ادارے سی این این کے رپورٹر نک رابرٹسن نے کہا کہ اتوار کو اس نے طرابلس میں مغراہی کے محل نما گھر میں اس سے ملاقات کی۔ رپورٹر کے بقول مغراہی انتہائی کمزور ہو کر ایک ڈھانچے کی شکل اختیار کر چکا ہے اور وہ بے ہوشی کی حالت میں ہے۔ اس کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ وہ آکسیجن کی مدد سے زندہ ہے اور اس پر اکثر غشی طاری رہتی ہے۔

اسکاٹ لینڈ کے حکام نے کئی روز قبل کہا تھا کہ لیبیا میں انتشار کے بعد ان کا مغراہی سے رابطہ ختم ہو چکا ہے۔ معمر قذافی کے زوال کے بعد بعض مغربی دارالحکومتوں میں یہ توقعات پیدا ہو گئی تھیں کہ لیبیا کے نئے رہنما مغراہی کی حوالگی پر آمادگی ظاہر کر سکتے ہیں مگر یہ اقدام لیبیا میں سیاسی طور پر انتہائی غیر مقبول تصور کیا جائے گا، جہاں مغراہی کو سیاسی بساط کا ایک بے قصور مہرہ سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM