1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاکربی بمبار رہائی کے بعد لیبیا پہنچ گیا

اسکاٹ لینڈ کے گاؤں لاکربی پر تقریبا 21 سال قبل مسافر طیارہ گرانے کے جرم میں سزا کاٹنے والے حملہ آور کو رہا کر دیا گیا ہے جس کے بعد وہ اپنے وطن لیبیا پہنچ گیا ہے۔ اس دہشت گردانہ کارروائی میں 270 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

default

لاکربی بمبار عبدالباسط المغراہی

لاکر بی بمبار عبدالباسط المغراہی کو جمعرات کو انسانی بنیادوں پر رہا کیا گیا۔ وہ سرطان کے مرض میں مبتلا ہے اور اس کی بیماری آخری مرحلے پر ہے۔ اسے دسمبر 1988میں اسکاٹ لینڈ کے گاؤں لاکر بی پر ایک مسافر طیارہ گرانے کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

لندن سے نیویارک جانے والے اس طیارے پر 259 مسافر سوار تھے جن میں سے 189 امریکی تھے جبکہ زمین پر موجود 11 افراد بھی ہلاک ہوئے۔ اُدھر امریکی صدر باراک اوباما نے المغراہی کی رہائی کو اسکاٹ لینڈ حکام کی غلطی قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا ہے کہ اسے لیبیا میں نظر بند رکھا جانا چاہئے۔ باراک اوباما نے لیبیا پر زور دیا ہے کہ عبدالباسط مغراہی کا استقبال ایک ہیرو کی مانند نہیں ہونا چاہئے۔

تاہم اسکاٹ لینڈ سے رہائی کے بعد عبدالباسط لیبا پہنچا تو تریپولی ہوائی اڈے پر ہزاروں افراد نے اس کا استقبال کیا۔

ایک بیان میں باراک اوباما نے کہا کہ اسکاٹش حکام کو المغراہی کی رہائی پر امریکی اعتراضات سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔

اُدھر اسکاٹ لینڈ کے وزیر انصاف کینی میکیسکل کا کہنا ہے کہ اسکاٹش قانون انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے ساتھ رحم کرنے پر بھی زور دیتا ہے۔ اسکاٹش حکام کاکہنا تھا کہ المغراہی ایک جان لیوا مرض میں مبتلا ہے اور اسے اپنے وطن میں آخری سانسیں لینے کی اجازت دی جانی چاہئے۔

Abdel Basset Ali al - Megrahi

المغراہی کی رہائی، اسکاٹ لینڈ میں 'آنکھ کے بدلے آنکھ' کا اصول نہیں، اسکاٹش اخبار

دوسری جانب لندن کے مختلف اخبارات نے عبدالباسط المغراہی کی رہائی پر اسکاٹ لینڈ کے حکام کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے المغراہی کی رہائی کو 'انصاف سے دغا' قرار دیا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے واشنگٹن اور لندن کے باہمی تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

لندن کے اخبارات کا کہنا ہے کہ المغراہی کو اسکاٹ لینڈ میں ہی قید میں رکھا جانا چاہئے تھا۔ 'دی ٹائمز' نے اس کی رہائی کو ایک غلط فیصلہ قرار دیا ہے۔

اس کے برعکس اسکاٹ لینڈکے 'ہیرالڈ' اخبار نے اپنے حکام کے اس فیصلے کا دفاع کیا ہے۔ اس اخبار کے مطابق یہ شخص سرطان کے سبب بلاشبہ موت کی جانب بڑھ رہا ہے اور اس کی زندگی کے تقریبا تین مہینے ہی باقی ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ کسی مرتے ہوئے شخص کے لئے رحم کا مظاہرہ ایک ایسی قدر ہے جس سے ایک مہذب اور جابر معاشرے میں فرق کیا جا سکتا ہے۔ 'ہیرالڈ' مزید لکھتا ہے کہ اسکاٹ لینڈ کا عدالتی نظام 'آنکھ کے بدلے آنکھ' کے اصول پر قائم نہیں ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM