1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاپتہ ایرانی سائنسدان، امریکی سرزمین پر نمودار

لاپتہ ایرانی ایٹمی سائنسدان شاہرام امیری منگل کے روز کچھ دیر کے لئے امریکہ دارالحکومت واشنگٹن میں منظر عام پر آئے، جہاں حکام نے اس امر کی تصدیق کر دی کہ وہ کچھ عرصے سے امریکہ میں ہیں مگر جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔

default

ایرانی سائنسدان شاہرام امیری

تہران میں ملکی حکومت کا الزام ہے کہ اس ایرانی ایٹمی سائنسدان کو گزشتہ برس حج کے لئے سعودی عرب پہنچنے پر امریکی جاسوسوں نے اغوا کر لیا تھا۔ تاہم اب یہ شبہات بھی قوی ہوتے جا رہے ہیں کہ شاہرام امیری امریکی خفیہ ادارے کے لئے کام کرتے تھے اور وہ اپنی ہمدردیا‌ں تبدیل کرنے کے بعد ہی ایران سے امریکہ پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔

ایرانی ایٹمی پروگرام کے حوالے سے شاہرام امیری کا گزشتہ برس اچانک لاپتہ ہو جانا اور پھر یکدم امریکہ میں منظر عام پر آنا اس پس منظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ واشنگٹن میں امریکی ‌حکومت تہران میں ایرانی قیادت کے ان دعووں کو ‌غلط ثابت کرنا چاہتی ہے کہ ایران کا متنازعہ ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے۔

ایران کو اپنے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے نہ صرف اقوام متحدہ کی طرف سے پابندیوں بلکہ بین الاقوامی برادری کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا بھی ہے تاہم تہران میں ملکی قیادت بار بار یہی کہتی آئی ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور اس کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے۔

واشنگٹن سے ملنے والی رپورٹوں کے مطابق مبینہ طور پر اغوا شدہ ایرانی ایٹمی سائنسدان شاہرام امیری منگل کے روز واشنگٹن میں ایران کے قونصلر مشن کی ایک دفتری عمارت میں تھے، جہاں امریکی حکام نے یہ تردید کرتے ہوئے کہ امریکی ایجنٹوں نے انہیں کبھی اغوا کیا تھا، یہ بھی کہا کہ امیری ایک آزاد انسان ہیں اور وہ جہاں چاہیں جا سکتے ہیں۔

Ahmadinejad mit Uran Zentrifugen

ایک ایرانی جوہری مرکز پر محمود احمدی نژاد: فائل فوٹو

اسی ایرانی جوہری سائنسدان کے بارے میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا: ’’ وہ جب امریکہ آئے تھے تو آزاد تھے۔ اگر وہ کہیں جانا چاہیں، تو یہ فیصلہ کرنے میں بھی وہ پوری طرح آزاد ہیں۔ اس لئے کہ اپنے بارے میں ایسے تمام فیصلے صرف اور صرف خود انہی کو کرنا ہیں۔‘‘

شاہرام امیری کے بارے میں منگل کی شام واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان سے جب یہ پوچھا گیا کہ یہ ایرانی سائنسدان امریکہ کیسے پہنچا اور اس نے اب تک امریکہ میں کیا کیا، تو اس پر ترجمان نے کوئی بھی نئی تفصیلات بتائے بغیر صرف اتنا کہا: ’’وہ یہاں ہیں لیکن وہ کہیں جانے کے لئے آزاد ہیں۔ ہم نے انہیں روکا ہوا نہیں ہے اور نہ ہی وہ ایران کے ساتھ امریکی شہریوں کے تبادلے کے کسی مبینہ منصوبے کا کوئی حصہ ہیں۔‘‘

Senatorin Hillary Clinton, 20.01.2007

امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے بھی امیری کے حوالے سے بیان جاری کیا ہے۔

امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان فیلپ کراؤلی کے بقول شاہرام امیری نے پیر کے روز واپس ایران جانے کا پروگرام بنا رکھا تھا لیکن وہ اس حوالے سے اپنی تیاریا‌ں بروقت مکمل نہ کر پائے کہ کسی تیسرے ملک کے راستے واپس ایران جا سکیں۔

واشنگٹن میں امریکی انتظامیہ سے قربت رکھنے والے ذرائع نے فرانسیسی خبر ایجنسی AFP کو بتایا کہ تیس اور چالیس سال کے درمیان کی عمر والے شاہرام امیری نے دراصل اپنی ہمدردیاں تبدیل کر کے امریکہ اور امریکی حکام کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا اور اس کے اہل خانہ ابھی تک ایران میں ہیں، جس وجہ سے وہ زاتی طور پر کافی دباؤ کا شکار بھی ہے۔

منگل ہی کے روز شاہرام امیری نے ایرانی میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ انہوں نے باقاعدہ طور پر یہ درخواست کر دی ہے کہ انہیں جلد ازجلد واپس ایران جانے دیا جائے۔ اپنے لاپتہ ہونے سے پہلے شاہرام امیری تہران کی یونیورسٹٰ آف ٹیکنالوجی میں کام کرتے تھے اور ان کے بارے میں اسی سال مارچ میں امریکی ٹیلی وژن نیٹ ورک ABC نے یہ اطلاع بھی دی تھی کہ وہ ایرانی ایٹمی پروگرام سے متعلق تنازعے میں امریکہ کے طرفدار بن گئے ہیں، جو ایران کے لئے ایک بہت بڑا دھچکہ ہے۔

اسی دوران سپین کے دورے پر گئے ایرانی وزیر خارجہ منوچہر متقی نے منگل کے روز امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ شاہرام امیری کو جلد از جلد اور بحفاظت واپس ایران جانے کی اجازت دے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عابد حسین

DW.COM