1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاپتہ افراد کے حوالے سے پاکستان پر الزامات

انسانی ‌حقوق کے عالمی ادارے ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی سکیورٹی فورسز اور خفیہ ایجنسیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بلوچستان میں علیحدگی پسندوں کو دبانے کے لیے اغوا، تشدد اور قتل کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

default

ہیومن رائٹس واچ، ایچ آر ڈبلیو (HRW) نے پاکستان کے جنوب مغربی صوبے بلوچستان میں مبینہ زیادتیوں کے حوالے سے نئی رپورٹ میں کہا ہے کہ 2005ء سے اب تک سینکڑوں افراد کو ’زبردستی غائب‘ کیا جا چکا ہے۔

ایچ آر ڈبلیو کے مطابق ایسی کارروائیوں کا نشانہ بننے والے افراد کا کہنا ہے کہ انہیں رات کے وقت مسلح افراد نے گھروں سے اٹھایا،ا ن سے پوچھ گچھ کی گئی، انہیں مارا پیٹا گیا اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ انہیں کس کے حکم پر اور کیوں اٹھوایا گیا۔

انسانی حقوق کے اس ادارے کی جانب سے جاری کی گئی اس رپورٹ کا عنوان ہے: "We Can Torture, Kill, or Keep You for Years" یعنی’’ہم تمھیں تشدد کا نشانہ بنا سکتے ہیں، قتل کر سکتے ہیں، یا سالوں قید رکھ سکتے ہیں۔‘‘

اس رپورٹ میں میں بیان کیے گئے کیسز کے لیے نیم فوجی دستوں، پولیس اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

ایچ آر ڈبلیو کے ڈائریکٹر برائے ایشیا بریڈ ایڈمز کا کہنا ہے: ’’پاکستانی سکیورٹی سروسز بلوچ قوم پسند تحریک کے ساتھ مشتبہ وابستگی پر لوگوں کو غائب کر رہی ہیں، ان پر تشدد کر رہی اور اکثر انہیں قتل کر دیتی ہیں۔ یہ شدت پسندی کے خلاف لڑائی نہیں، یہ ظلم ہے۔‘‘

ایچ آر ڈبلیو کا کہنا ہے کہ کتنے افراد کو غائب یا قتل کیا گیا، ان کی تعداد واضح نہیں ہے۔ تاہم پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک نے 2008ء میں لاپتہ افراد کی تعداد گیارہ سو بتائی تھی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق دیگر پاکستانی حکام اس تعداد سے متفق نہیں۔

اے ایف پی کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستانی حکام لاپتہ افراد کے حوالے سے الزامات کی تردید کرتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے بہت سے دعوے علیحدگی پسندوں کی جانب سے پروپیگنڈے پر مبنی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس حوالے سے قانونی ضابطے پورے کیے جانے کے بارے میں عدلیہ نے یقین دہانی کرائی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبر رساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM