1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاپتہ افراد کی بازیابی کی ایک اور کوشش

پاکستان میں لاپتہ افراد میں کئی بچے بھی شامل ہیں اور ساتھ ہی خفیہ اداروں نے بچوں کو اپنے عزیزوں کے خلاف گواہی دینے پر مجبور کرنے کے لئے تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل

default

حقوق انسانی کے لئے کام کرنے والی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ لاپتہ افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔ ساتھ ہی ایمنسٹی انٹرنیشنل نے معذول ججوں کی بحالی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ایمنسٹی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ کس طرح مطلوبہ اشخاص کے نوعمربچوں کوگرفتارکرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تا کہ وہ شخص خود کو گرفتار کے لئے پیش کرے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دہشتگردی کےخلاف عالمی جنگ کے نام پر 563 افراد لاپتہ ہیں۔ جن میں کئی کم عمربچے بھی شامل ہیں۔ تنظیم نے مطالبہ کیا کہ یہ توان کو رہا کیا جائے یہ ان پر باظابطہ مقدمہ چلایا جائے۔ ادارے کے ایشیا پیسیفک ڈائریکٹر Sam Zarifi نے کہا کہ جبری طورپرنامعلوم مقام پرلوگوں کوحراست میں رکھنا حقوق انسانی کی پامالی کے زمرے میں آتا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت ملک میں حقوق انسانی کا خیال رکھتے ہوئے ان افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرے۔ کیونکہ وزیراعظم یہ کہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت حقوق انسانی کا خیال کرے گی۔

ساتھ ہی اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ لاپتہ افراد کے رشتہ داروں پر خفیہ ادارے زور بھی ڈالتے رہتے ہیں کہ وہ عدالت سے رجوع نہ کریں اور نہ ہی اخبارات میں کسی قسم کا بیان دیں۔ ایمنسٹی کے مطابق وزیر قانون فاروق نائیک کئی مرتبہ یقین دہانی کرا چکے ہیں کہ یہ افراد جلد رہا ہو جائیں گے جبکہ کچھ اسی قسم کی یقین دہانیاں بلوچستان کے وزیراعظم اسلم رئیسانی بھی اکثر کراتے رہتے ہیں۔ تنظیم نے امریکی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اس طرح کے اقدامات کی پشت پناہی کرنے سے گریز کرے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی کی جنرل اسمبلی نے 2006 میں جبری طور پر غائب کرنے کے خلاف ایک کنونش منظور کیا تھا۔ جس پر 72 ممالک نے دستخط کئے تھے لیکن پاکستان ان میں شامل نہیں تھا۔ ایمنسٹی کے مطابق لاشتہ افراد کی بازیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ خفیہ اور دیگر اداروں کے اختیارات ہیں۔ تنظیم نے پاکستانی حکومت سے تمام لاپتہ افراد کی فوری بازیابی کے ساتھ ساتھ تمام نظر بندی کے مراکز کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ساتھ ہی خفیہ گرفتاریوں سے منسلک افراد پر مقدمہ چلانے کا بھی مطالبہ شامل ہے۔