1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لاپتہ افراد کا عالمی دن

1982میں ایلسلواڈورمیں ہونے والے فسادات بہت شدت پر تھے۔ ایک فوجی کاروائی میں سات سالہ ایرنستینا اور تین سالہ ایرلیندا کوآرمی نے اٹھا لیا تھا۔ اس کے بعد آج تک ان کی کوئی خبر نہیں۔

default

ایمنسٹی انٹرنیشنل

ان کی والدہ ماریہ ویکٹوریہ کروز فرانسکو نے گزشتہ پچیس برس اپنی بیٹیوں کی تلاش میں صرف کر دئے ۔ماریہ ویکٹوریہ پھر کبھی ان بچوں کی آواز تک نہ سن پائیںاور آج بھی انہیں یہ معلوم نہیں کہ ان کی بیٹیاں کہاں ہیں۔ انہوں نے انصاف کے حصول کے لئے ایلسلواڈور کا ہر دروازہ کھٹکھٹایامگر کچھ نہیں بدلا ، کوئی انہیں انصاف نہ دے پایا۔

ہزاروں میل دور پاکستان میں آمنہ مسعود جنجوعہ کی کہانی بھی ماریہ ویکٹوریہ سے مختلف نہیں ، انہیں اپنے شوہر کو آخری بار دیکھے تین سال سے زائد ہو چکے ہیں۔ مسعود احمد جنجوعہ اپنے ایک دوست فیصل فراز سے ملنے گھر سے خدا حافظ کہہ کر نکلے تھے اور آج تک واپس نہیں لوٹے۔ عینی شاہدین کے مطابق مسعود احمد جنجوعہ اور ان کے دوست فیصل فرازبس میں سفر کر رہے تھے کہ پاکستانی سیکیوریٹی فورسز نے انہیں بغیر کوئی جرم بتائے گرفتار کیا تھا۔ اس کے بعد ان کی کوئی خبر نہیں۔کچھ لوگوں نے خیال ظاہر کیا کہ وہ پاکستانی حکام کی تحویل میں ہیں اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔

سب جانتے ہیں کہ وہ لاپتہ ہیں مگر دراصل کوئی نہیں جانتا کہ آیا ایرنستینا، ایرلیندا اور مسعود زندہ ہیں یا انہیں مار دیا گیا ہے یا وہ تا حال کسی عقوبت خانے کی سزا سے گزر رہے ہیں۔

ایرنستینا، ایرلیندا اور مسعودگزشتہ پچیس سال سے دنیا بھر میں حکومتی اداروں کی جانب سے جاری اس سنگین جرم کی چند مثالیں ہیں۔ ایسی ہزاروں کہانیاں اقوامِ متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کے دستاویزات میں بھری پڑی ہیں۔ 1980سے تاحال تقریباً80ممالک کے ہزاروں افراد حکومتی سیکیوریٹی فورسز نے اٹھائے اور وہ آج تک لاپتہ ہیں۔صرف 2007میں مختلف ممالک میں حکومتی اداروں پر ہزاروں لاپتہ افراد کے حوالے سے الزامات سامنے آئے۔

کئی لوگوں کا خیال ہے کہ افراد کو لاپتہ کرنے کی روایت کا آغاز80کی دہائی میں لاطینی امریکہ کے فوجی آمرانہ دور سے ہوا۔ مگر ان 25سالوں میں بے شمار چیزیں بدل گئیں۔حکومتی اداروں کا افراد کوبنا کوئی الزام بتائے اور بغیر باقاعدہ طور پر گرفتا ر کئے , تحویل میں لینے کا سلسلہ آہستہ آہستہ دنیا بھر میں پھیلتا چلا گیا۔

حکومتیں اس اقدام کا اعتراف کر بھی لیں تو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام دے کر اس جرم کو جائز قراد دے دیتی ہیں۔ امریکی صدر بش نے اعتراف کیا تھاکہ سی آئی اے ایک پروگرام پر کام کر رہی ہے جس کے تحت دنیا کے مختلف ممالک کی حکومتوں کے ساتھ مل کرخفیہ جگہوں پر لوگوں سے تفتیش کر جارہی ہے۔ یقینا جن لوگوں سے ان خفیہ جگہوں پر تفتیش ہو رہی ہے وہی لاپتہ افراد ہیں، جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتاکہ وہ کہاں ہیں، انہیں عقوبت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے یا قتل کر دیا گیا ہے۔ صدر بش نے 2007 میں اس پروگرام کی توثیق بھی کی تھی۔

لوگوں کو لاپتہ کرنے کی روایت 2001سے قبل پاکستان میں شاذو نادر ہی تھی ، مگر ستمبر 11کے واقعات کے بعد افراد کو لاپتہ کر دینے کا سلسلہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر شروع ہو ا، اس کے بعد یہ سلسلہ اور بڑھا اور وہ افراد بھی اس کی زد میں آئے جو علاقائی اور نسلی بنیادوں پر اپنے حقوق کی جدوجہد کر رہے تھے۔

دنیا بھر میں لاپتہ افراد کے لئے منایا جانے والا دن اقوامِ متحدہ کی طرف سے اقوامِ عالم کو ان افراد کے بارے میں یاد دہانی کرانے کا دن ہے۔اقوامِ متحدہ اور دوسری کئی تنظیمیںعالمی سطح پر پراسرار گمشدگیوں سے لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے کے کنونشن پر کام کر رہی ہیں۔ اس وقت یقینا یہ ایک کاغذ کے ٹکڑے کے سوا کچھ نہیں ، مگر یہ ہزاروں افراد کو انصاف دلانے کا پہلا قدم ہے جن کے قریبی عزیز لاپتہ ہیں، یا جو اس وقت کسی خفیہ جگہ پر تفتیش کے اذیت ناک مراحل سے گزارے جا رہے ہیں۔ اگر اس کنونشن پر تمام حکومتیں متفق ہو گئیں تو اس دنیا سے اس جرم کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ ممکن ہو جائے گا۔اس سے ایرنستینا اور ایرلیندا اپنی ماں کے سینے سے لگ پائیں گی اور مسعود احمد اپنے گھر کو لوٹ سکیں گے۔ یہ حکومتوں کو یاد دہانی کر ا سکے گا کہ کسی فرد کو پراسرار طور پر لاپتہ کر دینا ایک جرم ہے۔

By Javier Zuniga, Amnesty International