1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاپتا زینت شہزادی دو برس بعد بازیاب

پاکستانی میڈیا کے مطابق دو سال سے لاپتا صحافی زینت شہزادی گھر لوٹ آئی ہیں۔ وہ سن 2015ء میں لاہور سے لاپتا ہو گئیں تھیں۔

ایک برطانوی نشریاتی ادارے سے بات چیت میں گم شدہ افراد کے کمیشن کے سربراہ ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال نے زینت شہزادی کی بازیابی کی تصدیق کی ہے۔ اقبال نے بتایا کہ زینت شہزادی کو بدھ کے روز پاک افغان سرحد سے بازیاب کرا لیا گیا۔

جاوید اقبال حال ہی میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) کے سربراہ بھی مقرر ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس گم شدگی کے درپردہ کچھ غیرریاستی عناصر اور دشمن ممالک کے ادارے شامل تھے جب کہ شہزادی کی بازیابی میں بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے قبائلی عمائدین نے کلیدی کردار ادا کیا۔ شہزادی کے خاندان نے تاہم ابھی اس بابت کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

پاکستان میں گمشدہ افرادکا مسئلہ تمام صوبوں تک پھیل گیا

’لوگوں کو غائب کرنا حکومت کی پالیسی نہیں‘، چوہدری نثار

’حکومت گمشدہ افراد کی جلد بازیابی ممکن بنائے‘

یہ بات اہم ہے کہ شہزادی گم شدہ افراد کے لیے آواز اٹھاتی تھیں اور اگست 2015ء میں اس وقت لاپتا ہو گئیں تھیں، جب وہ ایک بھارتی شہری حامد انصاری، جسے پاکستانی خفیہ اداروں نے حراست میں لیا تھا،  کے مقدمے کی پیروی کر رہی تھیں۔ زینت شہزادی ہی نے سپریم کورٹ کے انسانی حقوق کے سیل میں حامد کی والدہ فوزیہ انصاری کی معرفت سے درخواست جمع کرائی تھی۔ زینت شہزادی کی گم شدگی پر پاکستان میں سوشل میڈیا پر زبردست بات ہوئی۔

انسانی حقوق کی کارکن اور پاک بھارت دوستی سے متعلق پروجیکٹ ’امن کی آشا‘ سے وابستہ بینا سرور نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا، ’’مجھے نہایت خوشی ہے کہ گم شدہ زینت شہزادی بہ حفاظت گھر لوٹ آئی ہیں۔‘‘

زینت شہزادی کی گم شدگی کا الزام پاکستانی خفیہ ایجنسیوں پر بھی عائد کیا جاتا رہا ہے اور انسانی حقوق کے متعدد کارکنان یہ کہتے آئے ہیں کہ لاپتا افراد کے لیے آواز بلند کرنے پر ہی زینت شہزادی کو لاپتا کیا گیا۔

پاکستانی ٹوئٹر صارف سنبل نقوی نے اپنے ایک پیغام میں لکھا، ’’اس صحافی کے لیے کسی نے آواز نہیں اٹھائی کیوں کہ یہ ایک غریب خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور اسے سیاسی پشت پناہی حاصل نہیں تھی۔ خفیہ اداروں کے لیے شرم کی بات ہے۔‘‘

 

ایک اور سوشل میڈیا صارف کنور خالد یونس کے مطابق، ’’لاپتا صحافی دو برس بعد گھر لوٹ آئیں۔ زینت شہزادی کو تب اغوا کیا، جب وہ ایک بھارتی شہری کے مقدمے پر کام کر رہی تھیں، انہیں کس نے لاپتا کیا؟‘‘

 

DW.COM