1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لاوروف کی ابوظہبی میں اہم پریس کانفرنس کا مرکزی موضوع شام

روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف نے ابوظہبی میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شام میں محفوظ زونز کے حوالے سے امریکی موقف کی وضاحت طب کر لی ہے اور عرب لیگ میں شام کی واپسی کی وکالت کی ہے۔

Russland Sergei Lawrow in Moskau (Getty Images/AFP/N. Kolesnikova)

روسی وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف

روسی وزیر خارجہ لاوروف مشرقِ وُسطیٰ میں دہشت گردی کے خاتمے پر عرب لیگ کے علاوہ متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان کے ساتھ بھی بات چیت کرنے کے لیے امارات کے صدر مقام ابوظہبی میں تھے، جہاں اُنہوں نے یکم فروری بدھ کے روز عرب لیگ کے سربراہ احمد ابوالغیط کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

لاوروف نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شام میں ’سیف زونز‘ کے حوالے سے اپنی تجویز کی وضاحت کرنی  چاہیے تاکہ اُس ناکام حکمتِ عملی کا اعادہ نہ ہو، جو 2011ء میں لیبیا میں اختیار کی گئی تھی۔ ٹرمپ نے یہ تجویز بیرونی دنیا بالخصوص مغربی ملکوں میں شامی مہاجرین کو پناہ دینے کے متبادل کے طور پر پیش کی تھی تاہم ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا تھا کہ وہ یہ زونز کہاں بنانا چاہتے ہیں۔

رواں ہفتے کے آغاز پر دمشق حکومت نے کہا تھا کہ اُس کے ساتھ اتفاقِ رائے کے بغیر ’سیف زونز‘ قائم کرنا ’ غیر محفوظ‘ ہو گا۔ روس کی سرکاری نیوز ایجنسی تاس کے مطابق لاوروف نے کہا: ’’شامی بحران شروع ہونے کے فوراً بعد سے سیف زونز قائم کرنے کی تجویز زیرِ غور چلی آ رہی ہے  لیکن خطرہ یہ ہے کہ اگر ایسے کوئی زونز اُس علاقے میں قائم کیے جائیں، جہاں حکومت مخالف فورسز کا قبضہ ہو اور اُنہوں نے کسی طرح کی متبادل حکومت قائم کر رکھی ہو تو کہیں لیبیا کے مایوس کُن تجربے کا اعادہ نہ ہو جائے۔ ہم آج تک لیبیا کی علاقائی سالمیت کی بحالی کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں اور میرا نہیں خیال کہ واشنگٹن حکومت وہی راستہ دوبارہ اپنانا چاہے گی۔‘‘

لاوروف کے مطابق ٹرمپ کی تجویز کا مقصد مغربی دنیا کا رُخ کرنے والے شامی مہاجرین کی تعداد کو کم کرنا ہے لیکن یہ کہ روس اس  موضوع پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔

Ägyptischer Außenminister Ahmed Aboul Gheit (picture-alliance/ dpa/B.Szandelszky)

عرب لیگ کے سربراہ احمد ابوالغیط نے عرب لیگ میں شام کی جلد واپسی کو خارج از امکان قرار دیا ہے

اپنی اس پریس کانفرنس میں لاوروف نے عرب لیگ میں شام کی واپسی کی بھی وکالت کی اور کہا کہ اس عرب تنظیم میں شام کی رکنیت شامی تنازعے کے سیاسی حل کی تلاش میں عرب لیگ کی معاون ثابت ہو گی۔ لاوروف نے اس حقیقت کی جانب اشارہ کیا کہ شام اقوام متحدہ کا ایک ’باضابطہ‘ رکن ہے لیکن دوسری جانب ’عرب لیگ میں ہونے والے بحث مباحثے میں اپنا کردار ادا نہیں کر سکتا‘۔ انہوں نے کہا: ’’ہماری مشترکہ (امن) کوششوں میں یہ چیز معاون ثابت نہیں ہو رہی۔‘‘

اسی پریس کانفرنس میں موجود عرب لیگ کے سربراہ احمد ابوالغیط نے البتہ اس عرب تنظیم میں، جس  کا ہیڈ کوارٹر قاہرہ میں ہے، شام کی جلد واپسی کو خارج از امکان قرار دیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں کسی بھی فیصلے کا اختیار لیگ کے دیگر اکیس رکن ملکوں کے پاس ہے۔ مزید یہ کہ سرِدست شام کو پھر سے اس تنظیم میں شامل کرنا ایجنڈے پر نہیں ہے اور جیسے ہی شام میں تقریباً چھ سال سے جاری خانہ جنگی کے کسی ’سیاسی تصفیے‘ کے آثار نظر آئیں گے، یہ معاملہ بھی اٹھایا جائے گا۔

واضح رہے کہ شام میں حکومت مخالف مظاہروں اور اپوزیشن کی اُس تحریک کو بری طرح سے کچل دیے جانے کے بعد، جسے خلیج کی عرب ریاستوں کی پشت پناہی حاصل تھی، عرب لیگ نے 2011ء میں شام کی رکنیت معطل کر دی تھی۔