1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مقامی ہیروز

لاوارث میتوں کی تدفین کرنے والے میاں خلیل الرحمان

پاکستان میں غریب اور نادار لوگوں کی خدمت کرنے والے تو بہت سے ادارے اور افراد موجود ہیں لیکن لاہور کے نواحی قصبے شاہدرہ کے میاں خلیل الرحمان نے اپنی زندگی ان افراد کے لیے وقف کر رکھی ہے، جو دنیا میں موجود ہی نہیں۔

اس دنیا میں جو لوگ زندہ ہیں، ان کے کام آنے والے اور ان کے دکھوں کا مداوا کرنے والے تو بہت سے لوگ اور فلاحی ادارے موجود ہیں لیکن وہ لوگ جو اس دار فانی سے کوچ کر جائیں، جو نہ کسی سے فریاد کر سکتے ہوں اور نہ ہی کسی کو شکریے کے طور پر دعائیں دے سکتے ہوں۔ ان کی خدمت کرنے والے لوگ آج کی دنیا میں بہت کم نظر آتے ہیں۔ سماجی خدمت کا منفرد جذبہ رکھنے والے ایسے ہی لوگوں میں لاہور کے نواحی قصبے شاہدرہ سے تعلق رکھنے والے میاں خلیل الرحمان عبیر بھی شامل ہیں۔

عبیر ویلفئر ٹرسٹ کے چئیرمین چھپن سالہ میاں خلیل الرحمان گزشتہ چھبیس برسوں سے فلاحی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ لاوارث میتوں کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں، وفات شدہ اجنبیوں کو اپنا رشتہ دار سمجھتے ہیں، ان کے لیے قبر اور کفن کا بندوبست کرتے ہیں، انہیں غسل دیتے ہیں اور نماز جنازہ کے بعد ان کی احترام کے ساتھ تدفین کرتے ہیں۔

میاں خلیل الرحمان کا اپنے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’یہ میری نوجوانی کا زمانہ تھا، جب میں نے ایک علاقے سے گزرتے ہوئے ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی پر پڑی ایک لاوارث لاش دیکھی۔ اس میت پر پڑے کھیس کے اوپر آنے جانے والے لوگ سکّے پھنیک کر جا رہے تھے لیکن اس کی تجہیز و تکفین کے لیے وسائل نہ ہونے کی وجہ سے دھوپ میں پڑی لاش خراب ہو رہی تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب میں نے ہمیشہ کے لیے اس کام کا بیڑہ اٹھانے کا فیصلہ کیا۔‘‘

اپنی مدد آپ کے تحت سماجی خدمات سر انجام دینے والے میاں خلیل اب تک نو ہزار سے زائد لاوارث میتوں کی تدفین کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا تھا، ’’ہم نے لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کی تمام وارداتوں میں مارے جانے والے معصوم لاوارث لوگوں کی بھی تجہیز و تکفین کی ہے، میری زندگی کا سب سے دکھی دن وہ تھا، جب ہم نے ایف آئی اے کی بلڈنگ پر ہونے والے خود کش حملے میں مرنے والوں کی انتہائی مسخ شدہ لاشیں اٹھائیں۔ مجھے اب بھی کبھی کبھی جب یہ منظر یاد آتا ہے تو میں لرز جاتا ہوں۔‘‘ عبیر ویلفیئر ٹرسٹ ستّر مسیحیوں سمیت تقریباﹰ نوّے لاوارث غیر مسلم شہریوں کی میتوں کی آخری رسومات بھی سر انجام دے چکا ہے، ’’ہم غیر مسلم شہریوں کی میتوں کو غسل دے کر کفن پہنا کر ان کی کمیونٹی کے حوالے کر دیتے ہیں اور انہیں تدفین کے بقیہ مراحل پر اٹھنے والے اخراجات ادا کر دیتے ہیں۔ اب توہمارے کام کے حوالے سے لوگوں کو آگاہی حاصل ہوتی جا رہی ہے، جس بھی علاقے میں کوئی بھی لاوارث میت ملتی ہے وہاں کی پولیس قانونی کارروائی کے بعد ہمیں ہی اس کی اطلاع کرتی ہے۔ ‘‘ یہ ادارہ فی الحال صوبہ پنجاب اور سندھ کے ستّرہ شہروں میں کام کر رہا ہے۔

میاں خلیل الرحمان کا کہنا تھا، ’’ہم چاہتے ہیں کہ شاہدرہ اور شیخوپورہ کے آس پاس رہنے والوں کے لیے ایک سرد خانے پر مشتمل ایک ڈیڈ ہاؤس بننا چاہیے۔ لاش ملنے پر پولیس ضروری کارروائی کرکے فوری تدفین پر زور دیتی ہے، کئی مرتبہ اس بات کی تحقیق بھی نہیں کی جاتی کہ مرنے والا قتل ہوا ہے یا پھر کسے حادثے کا شکار۔‘‘

عبیر ویلفئیر ٹرسٹ گمشدہ افراد کو ان کے گھر والوں سے ملانے کا کام بھی کرتا ہے۔ اب تک ایک ہزار سے زائد گمشدہ افراد اس ٹرسٹ کی وجہ سے اپنے پیاروں سے مل چکے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ادارہ غریب بچوں کو اسکول کی کتابیں بھی فراہم کرتا ہے اور آفت زدہ علاقوں میں متاثرہ افراد کی مدد بھی کرتا ہے۔

میاں خلیل آنے والے دنوں میں چینوٹ، اچھرہ اور شاہدرہ جیسے علاقوں میں کلینیکل لیبارٹییز اور فری ڈسپنسریاں بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔