1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لانگ مارچ : لاہور کی روداد

سرکاری پابندیوں اور سفری رکاوٹوں کو توڑنے کے بعد وکلاء اورسیاسی کارکنوںکا لانگ مارچ سابق وزیرِ اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہے۔

default

سابق پاکستانی وزیرِ اعظم میاں نواز شریف اسلام آباد کی جانب گامزن

اس لانگ مارچ کو روکنے کے لئے پنجاب کے تمام علاقوں خصوصاً لاہورمیںحکومت نے انتہائی سخت اقدامات کئے تھے۔ نواز شریف اور چوہدری اعتزاز احسن سمیت کئی رہنمائوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی گئی تھی۔ لاہور کے داخلی اور خارجی راستوں کو بند کر دیا گیا تھا۔ لاہور کی کوئی بڑی سڑکایسی نہ تھی جہاںرکاوٹیں کھڑی کر کے مسلح پولیس اہلکاروں کو تعینات نہیںکیا گیا تھا۔

Proteste in Pakistan

لاہور اتوار کی صبح سے ہی کشیدگی کا شکار رہا

مسلم لیگ (ن) کے ماڈل ٹائون میں واقع مرکزی دفتر اور مال روڈ کی طرف جانے والے راستوں پر تو کرفیو کا سا سماں تھا ۔ سب سےزیادہ مشکلات کا سامنا شہر سے باہر سے آنے والوں کو تھا۔ کئی ایمبولینسوں اور تجارتی سامان سے لدے ٹرکوں کو بھی اپنا سفر جاری رکھنےمیں شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا ۔ شہر کے اندر سفر کرنے والے بعض لوگوں کو دس دسکلومیٹر تک کا فاصلہ بھی پیدل چل کر طے کرنا پڑا۔ پنجاب حکومت کی طرف سے اتوار کے روز نواز شریف کو نظر بندی کے احکامات بھجوائے گئے اورانہیں مطلع کیا گیا کہ شہر میں دہشت گردی کا خطرہ ہے اس لئے وہ ریلی نکالنے سے گریز کریں۔

تا ہم نوازشریف نے ان احکامات کو ماننے سے انکار کیا۔ اتوار کی دوپہر ملک کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے پانچ سوکے لگ بھگ کارکنوں کے ساتھ وہ پولیس کو چکمہ دے کر ماڈل ٹائون میں واقع مسلم لیگ (ن) کے مرکزی دفتر سے باہر نکلنےمیں کامیاب ہو گئے۔

Proteste in Pakistan

نواز شریف کے حامی ہزاروں افراد نواز شریف کے جلوس میں شامل ہوتے چلے گئے

نوازشریف کے کارواں کے سڑک پر آنے کے بعددیکھتے ہی دیکھتے چھوٹی چھوٹی ٹٹولیوں میں کارکن ان کے قافلے میں شامل ہو تے چلے گئے ۔ راستے مےں نوازشریف کا بھر پور استقبال کیا گیا۔ ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں۔ جب نواز شریف مال روڈ پر واقع ہائی کورٹ کی عمارت پر پہنچے تو ان کے قافلےمیں موجود لوگوں کی تعداد دس ہزار کے لگ بھگ پہنچ چکی تھی۔

نواز شریف کیقیادت میں لانگ مارچ کا قافلہ جوں جوں آگے بڑھتا رہا پولیس تو ں توں پیچھے ہٹتی گئی اور راستے میں حائلرکاوٹیں ہٹائی جاتی رہیں۔ بعض زرائع ابلاغ میں یہ اطلاعات بھی گردش کر رہی ہیں کہ لاہور کے ضلعی رابطہ افسر اور لاہور پولیس کے ڈی آئی جی آپریشنز سمیت کئی اعلیٰ افسروں نے احتجاجی مظاہرین کے خلاف کاروائی کی ہدایات نہ مانتے ہوئے اپنے استعفے اعلیٰ حکام کو پیش کردیے ہیں۔

Proteste in Pakistan

بحالیِ عدلیہ کے لیے پیر کے روز اسلام آباد میں دھرنا دیا جائے گا۔ حکومت نے پارلیمان کے اطراف تمام راستے بند کردیے ہیں

اب لاہور شہرمیں جشن کا سماں ہے۔ لانگ مارچ میں شرکت کے خواہش مند لوگ اسلام آباد کے لئے روانہ ہو رہےہیں۔ ملک بھر سے آئے ہوئے وکلا ء بھی اسلام آباد کی طرف محو سفر ہیں۔
لانگ مارچ کے اس حجوم میں نوازشریف بھی کارکنوں کی بڑی تعداد کے ہمرا ء فاتحانہ اندازمیں اسلام آباد کی طرف رواں دواں ہیں۔

قافلےمیں شامل لوگ صدر آصف علی زرداری کے خلاف اورعدلیہ کی آزادی کے حقمیں نعرے لگا رہےہیں۔ ایک گاڑی پر لانگ مارچ کا ترانہ چل رہا ہے۔ راستے سے گزرنے والے عام لوگ بھی ہاتھ ہلا کر لانگ مارچ کے شرکا ء کا خیر مقدم کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ لانگ مارچ کے راستےمیں جی ٹی روڈ پر لگائی جانے والی تمامرکاوٹیں ہٹائی جا رہی ہیں۔ تا ہم قافلے کی رفتار کافی سست ہے اور توقع کی جار ہی ہے کہ یہ قافلہ قدرے تاخیر کے ساتھ اسلام آباد پہنچ سکے گا۔ اگر اس قافلے کی راہ میں کوئی بڑی رکاوٹ حائل نہ ہوئی تو پھر اسلام آباد میں سوموار کے روز ایک بڑا سیاسی شو نظر آنے کا امکان ہے۔

Pakistan Präsident Aitzaz Ahsan in Islamabad, Wiederherstellung der Richter

وکلاء تحریک کے رہنما اعتزاز احسن بھی نظر بندی کو نظر انداز کرتے ہوئے مال روڈ پر پہنچ گئے

نواز شریف نے لاہور سے اپنے سفر کے آغاز سے پہلے پاکستانی لوگوں سے اپیل کی تھی کہ وہ پاکستان کو بچانے کے لئے اپنے گھروں سے باہر نکل آئیں اور اس کارواں مےں شامل ہو جائیں۔

مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں نے الزام لگایا ہے کہ نوازشریف کو حکومت کی طرف سے فراہم کی جانے والی سیکورٹی واپس لے لی گئی ہے ۔ اب نوازشریف کی کالےشیشوں والی بلٹ پروف گاڑی کی حفاظت پارٹی کارکن کر رہے ہیں۔ دوسری طرف حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ لانگ مارچ کے بعض شرکا نے لاہور میں گاڑیوں کےشیشے توڑے اور پولیس کی ایک گاڑی کو نظر آتش بھی کیا ہے۔ ان کے مطابق قانون کو ہاتھ میں لینے کی روش آنے والے دنوں میں خطر ناک نتائج کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

نوازشریف کیقیادت میںجانے والے لانگ مارچ میں جماعت اسلامی، پاکستان تحریک انصاف اور وکلا سمیت کئی سیاسیی اور سماجی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے تنظیموں کے ارکان شامل ہیں۔ اتوار کی شام وکلاء کے معروف رہنما چوہدری اعتزاز احسن بھی اپنی نظر بندی کے احکامات کو رد کرتے ہوئے لاہور کی مال روڈ پر پہنچے۔ وہاں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وکلا ء کے مطالبات فور ی طور پر مان لئے جانے چاہیں ۔ ان کے مطابق اب اس ضمن میں مذاکرات کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی ہے۔