1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لانگ مارچ: سفارتی کوششیں اور رحمان ملک کی تنبیہہ

معزول ججوں کی بحالی اور پاکستان میں قانون کی بالادستی کے لئے وکلاء کے لانگ مارچ کے آغازسے تین روز قبل مشیرداخلہ رحمان ملک نے سخت لہجےمیں واضح کر دیا کہ مارچ کے شرکاء کو پارلیمان کے سامنے دھرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

default

"بغاوت پر اکسانے کا نتیجہ، قانون کے مطابق کارروائی"

پیر کی شام اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم گیلانی کے داخلہ امور کے مشیر نے اپوزیشن جماعت مسلم لیگ (ن) اور خاص کر اس کی اعلیٰ قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ نواز شریف عوام کو بغاوت پر اکسا رہے ہیں اور ان کے بقول قانون کے مطابق اس جر م کی سزا عمر قید اور جرمانہ ہے۔

مشیر داخلہ نے شریف برادران کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ لانگ مارچ کی آڑمیں حکومتی عملداری چیلنج کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا اور اس دوران کسی بھی جانی یا مالی نقصان کا مقدمہ بغاوت کا علم بلند کرنے والوں کے خلاف درج کیا جائے گا۔

اسی دوران پاکستان میں سیاسی کشیدگی کو اس کے عروج پر دیکھتے ہوئے غیر ملکی سفارتکار بھی اپنی مفاہمتی کوششوں کے ساتھ سرگرم عمل ہو چکے ہیں اور اسی سبب اسلام آباد میں امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے و زیراعظم یوسف رضاگیلانی اور مسلم لیگ(ن)کے صدر میاں شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور موجودہ سیاسی بحران کے حل کے لئے مفاہمت کی راہ اپنانے پر زور دیا۔

امریکی سفیر کے ساتھ ملاقات کے بعد میاں شہباز شریف نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ انھوں نے مفاہمت کے لئے اپنی جماعت کے اصولی موقف سے امریکی سفیر کو آگاہ کر دیاہے۔ اس موقع پر شہباز شریف نے مشیر داخلہ رحمان ملک پر پنجاب میں ہارس ٹریڈنگ کے لئے قومی خزانے سے پچاس کروڑ روپے غبن کرنے کا الزام بھی لگایا اور کہا کہ وہ عدلیہ کی بحالی کے لئے حکومت کے دباؤ میں آئے بغیر لانگ مارچ میں بھر پور شرکت کریں گے۔

دوسری طرف پیر اور منگل کی درمیانی شب مقامی ذرائع ابلاغ نے اس خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا کہ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اور بین الصوبائی رابطوں کے وزیر میاں رضا ربانی نے وزیر قا نو ن فاروق ایچ نائک کوسینیٹ کا نیا چیئر مین نامزد کئے جانے کے فیصلے کے خلاف بطور احتجاج اپنے دونو ں عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ مقامی سیاسی تجزیہ نگار پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما رضا ربانی کے مستعفی ہونے کے فیصلے کو حکومت کے لئے ایک بڑا دھچکہ قرار دے رہے ہیں۔