1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

لال مسجد کے مولاناعبدالعزیز پھر سے سرگرم عمل

اسلام آباد کی لال مسجد کےسابق خطیب مولانا عبدالعزیزغازی کو2007ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ لال مسجد پر ہونے والی کارروائی کے بعد اب انہوں نےایک مرتبہ پھر خطابت شروع کر دی ہے۔

default

2007ء میں لال مسجد اور مولانا عبدالعزیز اس وقت دنیا بھر میں مشہور ہوئے، جب دارالحکومت اسلام آباد میں ان کے زیر انتظام چلنے والے جامعہ حفصہ کی طالبات نے بچوں کی ایک لائبریری پر قبضہ کیا۔ پھر مولانا کی جانب سے شریعت کے نفاذ کے اعلان، آنٹی شمیم اور چینی مساج سینٹر میں کام کرنے والوں کے اغوا جیسے واقعات کے بعد حکومت نے غازی برادران کے خلاف آپریشن کیا۔ اس کارروائی میں ان کے بھائی عبدالرشید غازی ہلاک ہو گئے جبکہ مولانا عبدالعزیز کو برقعہ پہن کر فرار ہونے کی کوشش کے دوران گرفتار کر لیا گیا۔ ڈوئچے ویلے کے نمائندے کائی کسٹنر کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے، انہوں نے اپنے سیاسی ارادوں کے بارے میں بتایا۔

Jahresrückblick 2007 Juli Pakistan Rote Moschee

لال مسجد آپریشن 2007ء میں کیا گیا تھا

مولانا عبدالعزیز کے بقول مدرسے کو وسیع کیا جا رہا ہے، یہاں نئے کمرے تعمیر کیے جا رہے ہیں تا کہ مزید بچیوں کو تعلیم دی جا سکے۔’’ آج کل یہاں 5 ہزار طلبہ و طالبات مذہبی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ہم نئے مدرسے تعمیر کر رہے ہیں اور جو پہلے سے قائم ہیں انہیں وسعت دی جائے گی‘‘۔ مولانا بہت ہی پرسکون دکھائی دے رہے تھے۔ انہیں دیکھ کر یہ محسوس ہی نہیں کیا جا سکتا تھا کہ وہ دو سال پہلے تک قید تھے اور ان پرکچھ پابندیاں بھی عائد تھیں۔ تاہم اب مولانا عبدالعزیز غازی مکمل طور پر آزاد ہیں۔

اس سے قبل بھی مولانا عبدالعزیز شریعت اور اسلامی نظام رائج کرنے کی ناکام کوشش کر چکے ہیں۔ اس دوران ان کے زیر انتظام چلنے والے مدرسوں کے طلبہ وطالبات نے اسلام آباد کو ان تمام اشیاء سے پاک کرنے کا پروگرام بنایا، جوان کی نظر میں غیر اخلاقی تھیں۔ سی ڈیز کی دکانوں پر حملے کیے گئے۔ اس کے بعد اس وقت کے صدر پرویز مشرف نے لال مسجد پر کارروائی کرنے کا حکم دیا۔ ساتھ ہی سب پر یہ عیاں ہو گیا کہ یہ افراد کس حد تک مسلح تھے۔

Pakistan, Rote Moschee, Islamabad

اس آپریشن میں 100 سے رائد افراد ہلاک ہوئے تھے

اس واقعےکے بعد اب مولانا عبدالعزیزکا لہجہ بدلا ہوا ہے، وہ پہلے کے مقابلے میں احتیاط سے کام لے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر انہوں نے انٹرویو کے دوران کہا کہ یہ ان کی ذمہ داری نہیں ہےکہ وہ اپنے مدرسے میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں کو افغانستان میں طالبان کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے تیار کریں۔

کائی کسٹنر کے ساتھ اپنے انٹرویو کے دوران مولانا عبدالعزیز نے جب بھی دہشت گردوں کا ذکرکیا تو ان کا لہجہ بہت ہی دھیمہ اور نرم تھا۔ اس دوران انہوں نے اسامہ بن لادن کے مسلم ممالک کو متحد کرنے اور اپنے فیصلے خود کرنے کے فلسفے کی بھی تائید کی۔

رپورٹ: کائی کسٹنر

ترجمہ : عدنان اسحاق

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM