1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز کی رہائی

لال مسجد کے سابق خطیب مولانا عبدالعزیز پر اغواء، اقدام قتل اور بغاوت کے 27 مختلف مقدمات تھے جن میں سے 25 میں انہیں پہلے ہی ضمانت مل چکی تھی۔جبکہ ایک مقدمے میں انہیں رہا کر دیا گیا تھا۔

default

مولانا عبدلعزیزتقریبا دو سال سے حکومتی حراست میں ہیں

بدھ کے روز سپریم کورٹ نے انہیں لال مسجد سے ملحقہ چلڈرن لائبریری پر قبضے کے آخری مقدمے میں بھی ضمانت پر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا ۔ عدالت نے مولانا عبدالعزیز کے وکیل کو حکم دیا ہے کہ وہ دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروائیں۔

Pakistan, Rote Moschee, Islamabad

لال مسجد میں عسکریت پسندوں کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی کی گئی تھی

وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق مولانا عبدالعزیز کی رہائی حکومت اور لال مسجد انتظامیہ کے درمیان اس خفیہ مفاہمت کے بعد ممکن ہو سکی ہے جس کے تحت مولانا رہائی کے بعد اشتعال انگیز تقاریر اور حکومت کے خلاف پراپیگنڈہ نہیں کریں گے۔ تاہم مولانا عزیز کے وکیل شوکت صدیقی نے صحافیوں کو بتایا کہ عدالت نے ناکافی ثبوت کی بنیاد پر ان کے مؤکل کی رہائی کا حکم دیا ہے۔

’’بینچ نے مولانا عبدالعزیز کی ضمانت منظور کر لی ہے اور عدالت نے یہ مشاہدہ کیا ہے کہ اس کیس میں مولانا عبدالعزیز کے خلاف کوئی ایسا میٹریل نہیں ہے جس کی بنیاد پر ان کو ضمانت پر رہا نہ کیا جا سکے۔‘‘

Pakistan, Vorbereitungen auf den Sturm der Roten Moschee

فوجی آپریشن میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے

خیال رہے کہ مولانا عبدالعزیز کو خفیہ ایجنسیوں نے جولائی2007ء میں لال مسجد آپریشن کے دوران اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ برقعہ پہن کر فرار ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ تاہم سوات میں نظام عدل ریگولیشن کے باقاعدہ نفاذ کے موقع پر مولانا عبدالعزیز کی رہائی کو معنی خیز قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اگرچہ سوات کے طالبان اور صوبائی حکومت نے نظام عدل کے نفاذ کے موقع پر خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا ہے تاہم امریکی حکومت اور پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے سینیٹر جان کیری نے سوات امن معاہدے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کے ایک ترجمان رابرٹ گبز نے بھی سوات معاہدے کو حقوق انسانی اور جمہوریت کے اصولوں سے متصادم قرار دیا ہے تاہم اب دیکھنا یہ ہے کہ طالبان کے زیر انتظام نظام عدل اور صوبائی حکومت کے زیر انتظام قانونی نظام کس طرح اکٹھے چل پائیں گے۔