1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

لارڈز ٹیسٹ: آسٹریلیا کی جیت کی راہ میں بٹ حائل

لارڈز کے میدان میں سلمان بٹ کی شاندار اننگز کے باعث پاکستانی ٹیم ایک مرتبہ پھر کھیل میں واپس آ گئی ہے۔ پہلے ٹیسٹ کے تیسرے روز بٹ نے 58 رنز کی متاثر کن اننگز کھیلی۔

default

جمعرات کے روز تیسرے دن کے کھیل کے اختتام پر پاکستانی ٹیم نے ایک وکٹ کے نقصان پر 114 رنز بنا ئے تھے اور اس کے سامنے ابھی ایک بڑا ہدف موجود ہے۔ آسٹریلیا کی جانب سے پہلی اننگز میں صرف 253 رنز بنائے گئے تاہم دوسری اننگز میں آسٹریلوی ٹیم 334 رنز بنانے میں کامیاب رہی۔ پاکستانی بیٹنگ لائن پہلی اننگز میں مکمل طور پر ناکام رہی اور محض 148 رنز بنا کر پوری ٹیم ڈھیر ہو گئی۔ پہلی اننگز میں بھی سلمان بٹ 63 رنز کے ساتھ ٹاپ سکورر رہے تھے۔

بٹ کا ساتھ اس وقت اپنا پہلا بین الاقوامی ٹیسٹ میچ کھیلنے والے اظہر علی دے رہے ہیں، جنہوں نے اب تک 28 رنز بنائے ہیں۔ یہ میچ جیتنے کے لئے ابھی پاکستان کو مزید 326 رنز درکار ہیں۔

Cricket-Spieler Michael Hussey

مائیکل ہسسی دوسری اننگز میں بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے

پہلی اننگز میں خاطر خواہ کامیابی نہ دکھانے والی پاکستانی ٹیم کے سامنے اپنی دوسری اننگز میں 440 رنز کا ایک بڑا ہدف تھا، جبکہ کھیل کے تیسرے روز 114 رنز بنا لینے کے باوجود ابھی اسے مزید 326 رنز درکار ہیں۔ اگر پاکستانی ٹیم یہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے، تو کرکٹ کی تاریخ کا یہ پہلا موقع ہو گا، جب چوتھی اننگز میں کوئی فاتح ٹیم اتنا زیادہ سکور کرنے میں کامیاب ہو گی۔ اس سے قبل سن 2002-2003 میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے درمیان اینٹی گوا کے میدان پر کھیلے جانے والے ایک میچ کی آخری اننگز میں 418 رنز بنائے گئے تھے۔

اس سے قبل پاکستانی ٹیم نے سن 1994ء میں کراچی میں آسٹریلیا کے خلاف آخری اننگز میں اب تک کا اپنا سب سے بڑا سکور بنایا تھا جو 315 تھا۔

لارڈز کے میدان میں آخری اننگز میں زیادہ سے زیادہ سکور 1984ء میں انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلے گئے ٹیسٹ میچ میں ویسٹ انڈیز نے بنایا تھا۔ اس میچ کی آخری اننگز میں مہمان ویسٹ انڈیز نے 344 رنز بنائے تھے۔

Cricket - Shahid Afridi

شاہد آفریدی ٹیسٹ کی پہلی اننگ میں سلمان بٹ کے بعد سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز تھے

نوجوان پاکستانی بلے باز اور اس ٹیسٹ میں اپنا ’ڈبیو‘ کرنے والے کھلاڑی عمر امین کا کہنا ہے کہ سلمان بٹ اور اظہر علی اگر آج کھیل کے چوتھے روز زیادہ دیر تک کریز پر ٹھہرنے میں کامیاب ہو گئے، تو عین ممکن ہے کہ پاکستان یہ میچ جیت جائے۔

’’یقینی طور پر سلمان اور اظہر نے بہت اچھا کھیل پیش کیا ہے۔ اگر یہ دونوں بلے باز کل بھی ایسا ہی کھیل پیش کرنے میں کامیاب ہو گئے، تو پاکستان کو یہ میچ جیتنے کا اچھا موقع مل سکتا ہے۔‘‘

لارڈز کے اس تاریخی میدان میں اس میچ میں چار کھلاڑیوں نے اپنا ’ڈبیو‘ کیا۔ اپنا پہلا بین الاقوامی ٹیسٹ میچ کھیلنے والے ان چار کھلاڑیوں میں سے دو پاکستانی ہیں اور دو آسٹریلوی۔ ٹیسٹ کیپ حاصل کرنے والے دو آسٹریلوی کھلاڑیوں میں سے ایک وکٹ کیپر Tim Paine ہیں۔

Tim Paine کے مطابق اگر سورج کی روشنی نے ساتھ نہ دیا اور آسٹریلوی بولروں کو سوئنگ کا موقع نہ ملا، تو پاکستانی ٹیم کے لئے میچ جیتنا مشکل نہیں ہو گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ آسٹریلوی ٹیم سلمان بٹ کو جلد آؤٹ کرنے کی بھرپور کوشش کرے گی۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM