1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

لائیپزگ کا بین الاقوامی کتاب میلہ شروع ہو گیا

جرمنی کے مشرقی شہر لائیپزگ ميں ہر سال مارچ کے مہينے ميں کتابوں کی ايک بہت بڑی بین الاقوامی نمائش کا اہتمام کيا جاتاہے۔ اس سال یہ نمائش آج جمعرات کے دن سے شروع ہورہی ہے۔جو اتوار کے روز تک جاری رہے گی۔

default

وولف گانگ مارسین میلے کی افتتاحی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے

کہا جاتاہے کہ کتاب سب سے اچھی دوست ہے اور اس حقیقت کو بین الاقوامی اقتصادی بحران بھی نہیں بدل سکا۔ لائیپزگ میں کتابوں کی بین الاقوامی نمائش کی رونق اسی امر کا ثبوت ہے۔ امسالہ نمائش میں 38 ملکوں کے 2100 کے قریب نمائش کنندگان نے جو سٹال لگائے ہیں وہ نئی کتابوں سے سجے ہوئے ہیں۔

لائیپزگ کتاب میلے کے ڈائریکٹر اولیور سیلہ کہتے ہیں کہ وہ اس نمائش سے خوش ہیں۔ "ان موضوعات پر شائع شدہ کتابوں کی تعداد پچھلے برسوں کی نسبت اور زیادہ بڑھی ہے جو ہماری مہارت کے دائرے میں آتے ہیں، جیسے افسانوی اور غیر افسانوی کتابیں، بچوں کی کتابیں اورمعلوماتی کتابیں"۔

Logo Leipziger Buchmesse Leipzig liest 2009

لائیپزگ کتاب میلے کا لوگو

کتابوں کی اس بین الاقوامی نمائش میں مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والے بہت سے ناشرین بھی بھرپور طریقے سے حصہ لے رہے ہیں۔ موجودہ مالیاتی بحران کے منفی اثرات ان ملکوں پر ہھی پڑے ہیں لیکن کتابوں کی صنعت میں یہ ریاستیں کامیابی کی راہ پر گامزن ہیں۔

کروشیا میں منعقدہ کتابی نمائش میں کامیاب شرکت کے بعد مقدونیہ اور بوسنیا پہلی بار لائیپزگ کی نمائش میں حصہ لے رہے ہیں۔ نمائش گاہ کے ڈائریکٹر وولف گانگ مارسین کا کہنا ہے کہ نمائش گاہیں نئی امیدوں کے لئے راہ ہموار کرتی ہیں۔ جرمن کتابی صنعت کے ساتھ بھی بہت سی توقعات وابستہ ہیں۔

جرمن کتابی صنعت کے نمائندے گوٹفریڈ ہونا فیلڈ کہتے ہیں کہ اس سال کا آغاز بڑا عمدہ رہا ہے۔ "اس سال صرف پہلے تین ماہ کے دوران کتابیں پڑھنے والوں کی شرح میں 1.7 فیصد کا اضافہ ہوا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں پچھلے پورے ایک سال کے دوران نئے پڑھنے والوں کی تعداد میں صرف ایک فیصد اضافہ ہوا تھا۔

اگرچہ گذشتہ برسوں میں e-books یا ڈیجیٹل کتابوں کی فروخت میں حیران کن اضافہ ہوا ہے تاہم جرمنی میں کتابی صنعت پر اس کا کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔ اس نمائش کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہاں 300 سے زیادہ سپورٹس ہالز میں سینکڑوں معروف مصنفین ہزارہا سامعین کو اپنی تخلیقات کے منتخب حصے خود پڑھ کر سنائیں گے۔