1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

لائپزگ کتاب میلہ شروع ہونے کو، یورپی مفاہمت کے لیے ایوارڈ

گزشتہ کئی عشروں سے ہائنرش آؤگسٹ وِنکلر کا شمار جرمنی کے نامور مؤرخین میں ہوتا ہے۔ اب اُنہیں لائپزگ کتاب میلے میں اُن کی تصنیف ’مغرب کی تاریخ‘ کے لیے ایک ادبی ایوارڈ بھی دیا جا رہا ہے۔

Bundestag Gedenkstunde zum Ende des Zweiten Weltkriegs Rede Winkler

ہائنرش آؤگسٹ وِنکلر

ستتر سالہ ہائنرش آؤگسٹ وِنکلر نے عصرِ حاضر کی تاریخ کے موضوع پر چار جلدوں پر مشتمل کتاب ’مغرب کی تاریخ‘ رقم کی ہے۔ اب اپنے اس تخلیقی کام کے لیے وِنکلر کو جرمنی کے ایک اہم ادبی انعام یعنی لائپزگ کتاب میلے کے یورپی مفاہمت کے ایوارڈ سے نوازا جا رہا ہے۔ جیوری نے اُن کے لیے لائپزگ بُک پرائز کے فیصلے کے جواز کے طور پر کہا تھا کہ ’تجزیے کی صلاحیت اور بیانیہ انداز کو ایک دوسرے سے مربوط کرنے کی اعلیٰ تخلیقی قوت کی بدولت اور مختلف پہلوؤں کو ملا کر ایک مؤثر شکل میں پیش کرنے کی صلاحیت کے حامل ہونے کی وجہ سے وِنکلر نے تاریخ میں دلچسپی رکھنے والے قارئین کے ایک وسیع تر حلقے کو قابلِ قدر معلومات مہیا کی ہیں‘۔

Buchcover Geschichte des Westens Die Zeit der Gegenwart Heinrich August Winkler

مؤرخ ہائنرش آؤگسٹ وِنکلر کی عصرِ حاضر کی تاریخ کے موضوع پر چار جلدوں پر مشتمل کتاب ’مغرب کی تاریخ‘ کی آخری جلد ’زمانہٴ حال‘ کا سرورق

وِنکلر کو بیس ہزار یورو مالیت کا یہ انعام سولہ مارچ کی شام لائپزگ کتاب میلے کی افتتاحی تقریب میں دیا جا رہا ہے۔ اس تقریب میں وِنکلر کے لیے تعریفی مقالہ ممتاز مؤرخ، صحافی اور ادیب فولکر اُلرش پیش کریں گے، جن کی تاحال کتابوں میں 2013ء میں شائع ہونے والی ’اڈولف ہٹلر‘ بھی شامل ہے۔

ہائنرش آؤگسٹ وِنکلر نے اپنی چار جلدوں پر مشتمل کتاب ’مغرب کی تار یخ‘ کی آخری اور چوتھی جِلد ’زمانہٴ حال‘ ابھی گزشتہ سال ہی مکمل کی تھی۔ اس سے پہلے جو تین جلدیں منظر عام پر آئیں، اُن کے عنوان تھے: ’زمانہٴ قدیم سے لے کر بیس ویں صدی تک‘، ’عالمی جنگوں کا دور - 1914ء تا 1945ء‘ اور ’سرد جنگ سے دیوار برلن کے خاتمے تک‘۔

ان چاروں جلدوں میں وِنکلر کا مرکزی خیال یہ رہا کہ وہ اٹھارویں صدی کے اواخر میں آنے والے امریکی اور فرانسیسی انقلابات کے تصورات کو اس بنیاد پر جانچیں کہ اُن سے پہلے کے تاریخی عوامل کیا تھے اور ان انقلابات کو کس انداز میں عملی جامہ پہنایا گیا یعنی اختیارات کی تقسیم، آئینی ریاست، جمہوری نگرانی اور انسانی حقوق کو عملی شکل دینے کے سلسلے میں کیا کیا اقدامات کیے گئے۔

اپنی تصانیف میں وِنکلر نے ریاست ہائے متحدہ امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جرمنی کے ساتھ ساتھ مشرقی یورپی ممالک کی تاریخ کا بھی گہری نظر سے جائزہ لیا ہے اور روس اور چین کے حالات میں ہونے والی پیشرفت کو بھی جانچا ہے۔ اُنہوں نے ان تصانیف میں یہ بھی دیکھا ہے کہ سرد جنگ نے دنیا کے دیگر براعظموں میں بھی کیا اثرات مرتب کیے۔

وِنکلر نے اپنے اس کتابی سلسلے کی آخری جلد میں اسلامی دہشت گردی، روس کی نئی استعماری پالیسیوں، چین کے ایک بڑی طاقت کے طور پر ابھرنے اور برازیل اور بھارت جیسی ابھرتی ہوئی ریاستوں کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار پر بھی بات کی ہے۔

لائپزگ بُک پرائز 1994ء سے ہر سال اس کتاب میلے کی افتتاحی تقریب میں دیا جاتا ہے۔